ملفوظات (جلد 5) — Page 176
کون ہے جو عبودیت سے انکار کرکے خدا کو اپنا محکوم بنانا چاہتا ہے؟ تعلقات الٰہی ہمیشہ پاک بندوں سے ہو اکرتے ہیں جیسا کہ فرمایا ہے اِبْرٰهِيْمَ الَّذِيْ وَفّٰۤى (النجم:۳۸) لوگوں پر جو احسان کرے ہرگز نہ جتلاوے۔جوابراہیم کے صفات رکھتا ہے ابراہیم بن سکتا ہے۔ہر ایک گناہ بخشنے کے قابل ہے مگر اللہ تعالیٰ کے سوااور کو معبود وکار ساز جاننا ایک ناقابل عفو گناہ ہے اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ (لقمان:۱۴) لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَكَ بِهٖ (النساء:۴۹) یہاں شرک سے یہی مُراد نہیں کہ پتھروں وغیرہ کی پرستش کی جاوے بلکہ یہ ایک شرک ہے کہ اسباب کی پرستش کی جاوے اور معبودات۱ دنیا پر زور دیا جاوے اسی کا نام ہی شرک ہے اور معاصی کی مثال تو حُقہ کی سی ہے کہ اس کے چھوڑدینے سے کوئی دقّت ومشکل کی بات نظر نہیں آتی مگر شرک کی مثال افیم کی ہے کہ وہ عادت ہو جاتی ہے جس کا چھوڑنا محال ہے۔بعض کا یہ خیال بھی ہوگا کہ انقطاع الیٰ اللہ کرکے تباہ ہو جاویں؟ مگر یہ سراسر شیطانی وسوسہ ہے۔اللہ کی راہ میں برباد ہونا آباد ہونا ہے۔اس کی راہ میں مارا جانا زندہ ہونا ہے۔کیا دنیا میں ایسی کم مثالیں اور نظیریں ہیں کہ جو لوگ اس کی راہ میں قتل کئے گئے ہلاک کئے گئے ان کے زندہ جاوید ہونے کا ثبوت ذرّہ ذرّہ زمین میں ملتا ہے۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو ہی دیکھ لو کہ سب سے زیادہ اللہ کی راہ میں برباد کیا اَور سب سے زیادہ دیا گیا۔چنانچہ تاریخ اسلام میں پہلا خلیفہ حضرت ابو بکر ہی ہوا۔۲،۳ ۱۵ ؍جون ۱۹۰۳ء (مجلس قبل از عشاء ) بیویوں سے حُسنِ معاشرت بار ہا دیکھا گیا اور تجر بہ کیا گیا ہے کہ جب کوئی شخص خفیف عذرات پر عورت سے قطع تعلق کرنا چاہتا ہے تو یہ اَمر حضرت مسیح موعودؑ کے ملال کا موجب ہوتا ہے۔ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک شخص سفر میں تھا اور اس نے اپنی بیوی کو لکھا کہ اگر وہ بدیدن خط جلدی اس کی طرف روانہ نہ ہو گی تو اسے طلاق دے دی جاوے گی۔سناگیا ہے کہ اس پر حضرت اقدس نے فرمایا تھا کہ