ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 175 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 175

گویا خدا تعالیٰ کو رشوت دینی ہوئی۔حالانکہ اللہ تعالیٰ فر ماتا ہے اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ يُّتْرَكُوْۤا اَنْ يَّقُوْلُوْۤا اٰمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُوْنَ(العنکبوت:۳) یعنی کیا یہ لوگ گمان کرتے ہیں کہ یہ فقط کلمہ پڑ ھ لینے پر ہی چھوڑ دئیے جاویں گے اور ان کو ابتلاؤں میں نہیں ڈالا جاوے گا۔پھر یہ لوگ بلاؤں سے کیسے بچ سکتے ہیں۔ہر ایک شخص کو جو ہمارے ہاتھ پر بیعت کرتا ہے جان لینا چاہیے کہ جب تک آخرت کے سرمایہ کا فکر نہ کیا جاوے کچھ اور نہ بنے گا اور یہ ٹھیکہ کرنا کہ ملک الموت میرے پاس سے نہ پھٹکے، میرے کنبہ کا نقصان نہ ہو، میرے مال کا بال بیکا نہ ہو، ٹھیک نہیں ہے۔خود شرط وفا دکھلاوے اور ثابت قدمی وصدق سے مستقل رہے۔اللہ تعالیٰ مخفی راہوں سے اس کی رعایت کرے گا اور ہر ایک قدم پر اس کا مددگار بن جاوے گا۔انسان کو صرف پنجگانہ نماز اور روزوں وغیرہ وغیرہ احکام کی ظاہری بجا آوری پر ہی ناز نہیں کرنا چاہیے۔نماز پڑھنی تھی پڑھ لی، روزے رکھنے تھے رکھ لیے، زکوۃ دینی تھی دے دی وغیرہ وغیرہ مگر نوافل ہمیشہ نیک اعمال کے مُتمم و مُکمِّل ہوتے ہیں اور یہی تر قیات کا موجب ہوتا ہے۔مومن کی تعریف یہ ہے کہ خیرات وصدقہ وغیرہ جو خدا نے اس پر فرض ٹھہرایا ہے۱ بجا لاوے اور ہر ایک کا رخیر کے کرنے میں اس کو ذاتی محبت ہو اور کسی تصنع و نمائش و رِیَا کو اس میں دخل نہ ہو۔یہ حالت مومن کی اس کے سچے اخلاص اور تعلق کو ظاہر کرتی ہے اور ایک سچا اور مضبوط رشتہ اس کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ پیدا کر دیتی ہے۔اس وقت اللہ تعالیٰ اُس کی زبان ہو جاتا ہے جس سے وہ بولتا ہے اور اس کے کان ہو جاتا ہے جس سے وہ سنتا ہے اور اس کے ہاتھ ہو جاتا ہے جس سے وہ کام کرتا ہے۔الغرض ہر ایک فعل اُس کا اور ہر ایک حرکت و سکون اس کا اللہ ہی کا ہوتا ہے۔اس وقت جو اس سے دشمنی کرتاہے وہ خدا سے دشمنی کرتا ہے اور پھر فر ماتا ہے کہ میں کسی بات میں اس قدر تردّد نہیں کرتا جس قدر کہ اس کی موت میں۔قرآن شریف میں لکھا ہے کہ مومن اور غیر مومن میں ہمیشہ فرق رکھ۲ دیا جاتا ہے۔غلام کو چاہیے کہ ہر وقت رضاءِ الٰہی کو ماننے اور ہر ایک رضا کے سامنے سر تسلیم خم کرنے میں دریغ نہ کرے۔