ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 175 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 175

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۷۵ جلد پنجم ۱۵ جون ۱۹۰۳ء (مجلس قبل از عشاء) بار ہا دیکھا گیا اور تجربہ کیا گیا ہے کہ جب کوئی شخص خفیف بیویوں سے حُسنِ معاشرت عذرات پر عورت سے قطع تعلق کرنا چاہتا ہے تو یہ امر حضرت مسیح موعود کے ملال کا موجب ہوتا ہے۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک شخص سفر میں تھا اور اس نے اپنی بیوی کو لکھا کہ اگر وہ بدیدن خط جلدی اس کی طرف روانہ نہ ہوگی تو اسے طلاق دے دی جاوے گی۔ سنا گیا ہے کہ اس پر حضرت اقدس نے فرمایا تھا کہ جو شخص اس قدر جلدی قطع تعلق کرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے تو ہم کیسے اُمید کر سکتے ہیں کہ ہمارے ساتھ اس کا پکا تعلق ہے۔ ایسا ہی ایک واقعہ اب چند دنوں سے پیش تھا کہ ایک صاحب نے اول بڑے چاہ سے ایک شریف لڑکی کے ساتھ نکاح ثانی کیا مگر بعد ازاں بہت سے خفیف عذر پر دس ماہ کے اندر ہی انہوں نے چاہا کہ اس سے قطع پہ تعلق کر لیا جاوے اس پر حضرت اقدس کو بہت سخت ملال ہوا اور فرمایا کہ مجھے اس قدر غصہ ہے کہ میں اسے برداشت نہیں کر سکتا اور ہماری جماعت میں ہو کر پھر یہ ظالمانہ طریق اختیار کر نا سخت عیب کی بات ہے۔ چنانچہ دوسرے دن پھر حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ فیصلہ صادر فرمایا کہ وہ صاحب اپنی اس نئی یعنی دوسری بیوی کو علیحدہ مکان میں رکھیں جو کچھ زوجہ اول کو دیو میں وہی اسے دیویں ایک شب اُدھر رہیں تو ایک شب ادھر رہیں اور دوسری عورت کوئی لونڈی غلام نہیں ہے بلکہ بیوی ہے اسے زوجہ اول کا دست نگر کر کے نہ رکھا جاوے۔ ایسا ہی ایک واقعہ اس سے پیشتر کئی سال ہوئے گزر چکا ہے کہ ایک صاحب نے حصول اولاد کی نیت سے نکاح ثانی کیا اور بعد نکاح رقابت کے خیال سے زوجہ اول کو جو صدمہ ہوا اور نیز خانگی تنازعات نے ترقی پکڑی تو انہوں نے گھبرا کر زوجہ ثانی کو طلاق دے دی۔ اس پر حضرت اقدس نے ناراضگی ظاہر فرمائی۔