ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 174 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 174

مصیبت اس کو پہنچتا ہے تو وہ بندہ اپنے لیے راحت جانتا ہے۔۱ الغرض کوئی دکھ اس رشتہ کو توڑتا نہیں اور نہ کوئی سُکھ اس کو دوبالا کرتا ہے۔ایک سچا تعلق وحقیقی عشق عبد ومعبود میں قائم ہو جاتا ہے اگر ہماری جماعت میں چالیس آدمی بھی ایسے مضبوط رشتہ کے جو رنج وراحت، عسر ویسر میں خدا تعالیٰ کی رضا کو مقدم کریں، تو ہم جان لیں کہ ہم جس مطلب کے لیے آئے تھے وہ پورا ہو چکا اور جو کچھ کرنا تھا وہ کر لیا۔کیسی سوچنے کی بات ہے کہ صحابہ کرامؓ کے تعلقات بھی تو آخر دنیا سے تھے ہی جائیدادیں تھیں، مال تھا، زر تھا۔مگر ان کی زندگی پرکس قدر انقلاب آیا کہ سب کے سب ایک ہی دفعہ دستبردار ہو گئے اور فیصلہ کر لیا کہ اِنَّ صَلَاتِيْ وَ نُسُكِيْ وَ مَحْيَايَ وَ مَمَاتِيْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ (الانعام:۱۶۳) ہمارا سب کچھ اللہ ہی کے لئے ہے۔اگر اس قسم کے لوگ ہم میں ہو جاویں تو کون سی آسمانی برکت اس سے بزرگ تر ہے؟ بیعت کرنا صرف زبانی اقرار ہی نہیں بلکہ یہ تو اپنے آپ کو فروخت کر دینا ہے خواہ ذلّت ہو نقصان ہو کچھ ہی کیوں نہ ہو کسی کی پر وانہ کی جاوے۔مگر دیکھو اب کس قدر ایسے لوگ ہیں جو اپنے اقرار کو پورا کرتے ہیں۔بلکہ خدا تعالیٰ کو آزمانا چاہتے ہیں پس یہی سمجھ رکھا ہے کہ اب ہمیں مطلقاً کسی قسم کی تکلیف نہیں ہونی چاہیے اور ایک پُر امن زندگی بسرہو حالانکہ انبیاؤں، قطبوں پر مصائب آئے اور وہ ثابت قدم رہے مگر یہ ہیں کہ ہر ایک تکلیف سے محفوظ رہنا چاہتے ہیں۔بیعت کیا ہوئی (بقیہ حاشیہ) لیے تیار رہے اور کسی مصیبت کی پروا نہ کرے مگر ایک پاجی سرکش عبودیت سے تو انکار کرتا ہے اور خدا کو اپنا محکوم بنانا چاہتا ہے۔‘‘ (البدر جلد ۲ نمبر ۲۳ مورخہ ۲۶؍جون ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۷۸) ۱الحکم میں ایسا ہی درج ہے مگر دراصل یہ لفظ محبوبات معلوم ہوتا ہے۔چنانچہ البدر میں بھی محبوبات ہی لکھا ہے۔(مصحح) ۲البدر کے الفاظ یہ ہیں۔’’بہت کا یہ بھی خیال ہوگا کہ کیا ہم انقطاع الی اللہ کرکے اپنے آپ کو تباہ کر لیویں؟ مگر یہ ان کو دھوکا ہے کوئی تباہ نہیں ہوتا۔حضرت ابو بکر ؓ کو دیکھ لو اُس نے سب کچھ چھوڑا پھر وہی سب سے اوّل تخت پر بیٹھا۔‘‘ (البدر جلد ۲ نمبر ۲۳ مورخہ ۲۶؍جون ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۷۸) ۳ الحکم جلد ۷ نمبر ۲۴ مورخہ ۳۰ ؍جون ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۰، ۱۱