ملفوظات (جلد 5) — Page 173
۱۴؍جون ۱۹۰۳ء (دربارِ شام) اللہ تعالیٰ سے سچارشتہ فرمایا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اورصحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے زمانہ کو اگر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوگ بڑے سیدھے سادے تھے جیسے کہ ایک بر تن قلعی کراکر صاف اور ستھرا ہو جاتا ہے ایسے ہی ان لوگوں کے دل تھے جو کلام الٰہی کے انوار سے روشن اور کدورات نفسانی کے زنگ سے بالکل صاف تھے گویا قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَا (الشّمس:۱۰) کے سچے مصداق تھے۔۱ مجھے خوب معلوم ہے کہ ابھی تک ہماری جماعت میں کثرت سے ایسے لوگ بھی ہیں جو خیال کرتے ہیں کہ اگر ہماری دنیا کو کسی طرح سے کوئی جنبش آئی تو ہم کدھر جاویں گے مگر تعجب تو یہ ہے کہ ایک طرف تو ہمارے ہاتھ پر اقرار کرتے ہیں کہ ہم دنیا پر دین کو مقدم سمجھیں گے اور دوسری طرف دنیا اور مافیہا میں ایسے پھنسے ہوئے ہیں کہ دنیا کی خاطر ہر ایک دینی نقصان برداشت کرنا گوارا کرتے ہیں۔ذرا سا کوئی کنبہ میں بیمار ہو جاوے یا بیل بکری ہی مَر جاوے تو جھٹ بول اُٹھتے ہیں کہ ہیں یہ کیا ہو ا؟ ہم تو مرزا صاحب کے مُر ید تھے ہمارے ساتھ کیوں یہ حادثہ واقعہ ہوا۔۲ حالانکہ یہ خیال ان کا خام ہے وہ اس سچے رشتے سے جو اللہ تعالیٰ سے باندھنا چاہیے ناواقف ہیں۔بر کا تِ الٰہی انسان پر اس وقت نازل ہوتے ہیں جب خدا سے مضبوط رشتہ باندھا جاوے۔جیسے رشتہ داروں کو آپس میں رشتہ کا پاس ہوتا ہے ویسا ہی اللہ تعالیٰ کو اپنے بندہ کے رشتہ کا جو وہ اس پاک ذات کے ساتھ ہے سخت پاس ہوتا ہے۔وہ مولا کریم اس کے لیے غیرت کھاتا ہے اور اگر کوئی دکھ یا ۱ البدر میں یوں لکھا ہے۔’’مومن کی تعریف یہ ہے کہ خیرات اور صدقہ وغیرہ جو کہ خدا نے اس پر فرض تو نہیں کئے مگر وہ اپنی ذاتی محبت سے ان کو بجا لاتا ہے اس وقت اس کا ایک خاص تعلق خدا سے ہوتا ہے۔‘‘ (البدر جلد ۲ نمبر ۲۳ مورخہ ۲۶؍جون ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۷۷) ۲ البدر میں ہے۔’’قرآن شریف میں بھی لکھا ہے کہ مومن اور غیر مومن میں ہمیشہ فرقان ہوتا ہے۔مگر ایک کم بخت جلد باز خدا کے فرقان کو پسند نہیں کرتا بلکہ نفس کے فرقان کو پسند کرتا ہے۔غلام کا کام یہ ہے کہ وہ ہر وقت عبودیت کے