ملفوظات (جلد 5) — Page 172
شریعت کا ایک رنگ ظاہر پر ہے اور ایک محبت الٰہیہ پر ہے کہ جن سے خدا کے خاص تعلق ہوتے ہیں ان پر کشف ہوتے ہیں ایسے امور ان سے صادر ہوتے ہیں کہ لوگوں کو اعتراض کا موقع ملتا ہے۔موسٰی پر اعتراض کیا کہ حبشن کیوں کی؟ آخر اس حرکت سے خدا کا غضب ان پر شروع ہوا اور جذام کے آثار نمودار ہوئے دوسرے گناہوں میں تو عذاب دیر سے آتا ہے مگر ان میں فوراً شروع ہو جاتا ہے۔سائل نے عرض کی کہ موسٰی نے پھر کیوںجرأت کی حالانکہ وہ نبی تھے؟ فرمایا کہ اسی لیے تو یہ قصّہ لکھا ہے کہ وہ نبی تھا اور تم تو اُمتی ہو تم کو تو اور بھی ڈر کر قدم رکھنا چاہیے۔یہ اس طرح کے امور ہوتے ہیں کہ ظاہری شریعت کو منسوخ کر دیتے ہیں۔۱ مولانا روم نے ایسی ہی ایک حکایت لکھی ہے کہ ایک طبیب نے ایک کنیز کو ایسے طریق سے ہلاک کر دیا کہ پتا نہ لگا۔مسہل وغیرہ ایسی ادویہ دیتا رہا کہ وہ کمزور ہو ہو کر مَر گئی۔تو پھر اس پر لکھا ہے کہ اس پر قتل کا جرم۲ نہ ہوگا کیونکہ وہ تومامور تھا۔اس نے اپنے نفس سے اسے قتل نہیں کیا بلکہ اَمر سے کیا۔اسی طرح ملک الموت جو خدا جانے کس قدر جانیں روز ہلاک کرتا ہے کیا اس پر مقدمہ ہوسکتا ہے؟ وہ تو مامور ہے اسی طرح ابدال بھی ملائکہ کے رنگ میں ہوتے ہیں۔خدا ان سے کئی خدمات لیتا ہے۔پیمانہ شریعت سے ہر ایک اَمر کو ناپنا غلطی ہوتی ہے۔۳،۴ ۱ البدر میں ہے۔’’اس میں شک نہیں کہ دنیا ایسا ہی مقام ہے کہ انسان کو اُس میں دُکھ اور مصیبت پیش آتی ہے مگر اُن کا تعلق خدا سے ایسا ہوتا ہے کہ اس دُکھ اور مصیبت میں ایک راحت نظرآتی ہے۔‘‘ (البدر جلد ۲ نمبر ۲۳ مورخہ ۲۶ ؍ جون ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۷۷ )