ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 171 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 171

کو ہلاکت میں ڈالنامنع ہے وَلَا تُلْقُوْا بِاَيْدِيْكُمْ اِلَى التَّهْلُكَةِ (البقرۃ:۱۹۶) مگر ایک شخص کو حکم ہوتا ہے کہ تو دریا میں جا اور چیر کر نکل جا تو کیا وہ اس کی نافرمانی کرے گا؟بھلا بتلائو تو سہی کہ حضرت ابراہیمؑ کا عمل کہ بیٹے کو ذبح کرنے لگ گئے کون سا شریعت کے مطابق تھا؟ کیا یہ کہیں شریعت میں لکھا ہے کہ خواب آوے تو سچ مچ بیٹے کو اُٹھ کر ذبح کرنے لگ جاوے؟مگر وہ ایسا عمل تھا کہ ان کے قلب نے اسے قبول کرکے تعمیل کی۔پھر دیکھو۔موسٰی کی ماں تو نبی بھی نہ تھی مگر اُس نے خواب کے رُو سے موسیٰ کو دریا میں ڈال دیا۔شریعت کب اجازت دیتی ہے کہ اس طرح ایک بچہ کو پانی میں پھینک دیا جاوے۔بعض امور شریعت سے وراء الورا ہوتے ہیں اور وہ اہل حق سمجھتے ہیں جوکہ خاص نسبت خدا تعالیٰ سے رکھتے ہیں اور وہی ان کو بجالاتے ہیں۔ورنہ اس طرح تو خدا پر اعتراض ہوتا ہے کہ وہ لغو امور کا حکم کرتا ہے حالانکہ خدا کی ذات اس سے پاک ہے۔اس کا سِر وہی جانتے ہیں جو خدا سے خاص تعلق رکھتے ہیں۔ایسے امور میں جلد بازی سے کام نہ لینا چاہیے۔خدا تعالیٰ نے یہ قصے اس لیے درج کئے ہیں کہ انسان ادب سیکھے۔ایک مرید کا ادب اپنے مرشد کے ساتھ یہ بھی ہے کہ اس پر اعتراض نہ کیا جاوے اور اس کے افعال واعمال پر اعتراض کرنے میں مستعجل نہ ہو۔جو علم خدا نے اسے (مرشدکو)دیا ہوتا ہے۔اس کے رُو سے خبر ہی نہیں ہوتی ورنہ اس طرح کی مخالفت کرنے سے کہیں سلبِ ایمان کی نوبت نہ آجاوے۔۱ البدر سے۔’’ جب ایک برتن کو مانج کر صاف کردیا جاتا ہے پھر اس پر قلعی ہوتی ہے اور پھر نفیس اور مصفّا کھانا اس میں ڈالا جاتا ہے۔یہی حالت ان کی تھی۔اگر انسان اسی طرح صاف ہو اور اپنے آپ کو قلعی دار برتن کی طرح منور کرے تو خدا تعالیٰ کے انعامات کا کھانا اس میں ڈال دیا جاوے۔لیکن اب کس قدر انسان ہیں جو ایسے ہیں اور آیت قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَا (الشّمس:۱۰) کے مصداق ہیں۔‘‘ (البدر جلد ۲ نمبر ۲۳ مورخہ ۲۶ ؍ جون ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۷۷ ) ۲ البدر میں ہے۔’’اگر کوئی طاعون سے مَر جاتا ہے تو کہتے ہیں کہ وہ تو مرید تھا وہ کیو ں مَرا؟ اب دیکھ لو کہ اس زمانہ میں اور اُس زمانہ میں کس قدر فرق ہے۔‘‘ (البدر جلد ۲ نمبر ۲۳ مورخہ ۲۶ ؍ جون ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۷۷ )