ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 170 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 170

قبل جائز ہوتا ہے حالانکہ اس موذی نے ابھی کوئی قتل وغیرہ کیا نہیں ہوتا۱ شریعت اور الہامی اور کشفی امور الگ الگ ہیں اس لیے ان کو شریعت کے ظاہری الفاظ کے تابع نہ کرنا چاہیے۔وحی الٰہی کا معاملہ ہی اَور ہوتا ہے اس کی ایک دو نظیریں نہیں بلکہ ہزار ہا نظائر ہیں بعض وقت ایک ملہم کو الہام کے رُو سے ایسے احکام بتلائے جاتے ہیں کہ شریعت کے رُو سے ان کی بجاآوری درست نہیں ہوتی مگر جسے بتلائے جاتے ہیں اسے ان کا بجالا نا فرض ہوتا ہے اور عدم بجاآوری میں اسے موت نظر آتی ہے اور سخت گناہ ہوتا ہے حالانکہ شریعت اسے گناہ قرار ہی نہیں دیتی یہ تمام باتیں مِنْ لَّدُنَّا عِلْمًا کے تحت میں ہوتی ہیں۔ایک جاہل تو ان کو شریعت کے مخالف قراردے گا اور اعتراض کرے گا مگر وہ اس کی بیوقوفی ہو گی وہ بھی اصل میں ایک شریعت ہی ہے۔۲ جب سے دنیا چلی آئی ہے یہ دونوں باتیں ساتھ ساتھ چلی آتی ہیں یعنی ایک تو ظاہر شریعت ۳جو کہ دنیا کے امور کے واسطے ہوتی ہے اور ایک وہ امور جو کہ ازروئے کشف والہام کے ایک مامور پر نازل ہوتے ہیں اور اسے حکم ہوتا ہے کہ یہ کرو بظاہر گو وہ شریعت کے مخالف ہو مگر اصل میں بالکل مخالف نہیں ہوتا۔مثلاً دیکھ لو کہ ازروئے شریعت کے تو دیدہ دانستہ اپنی جان ۱ الحکم میں یہ عبارت یوں ہے۔’’ اس سوال کا جواب کہ موسیٰ علیہ السلام نے اعتراض کرنے میں کیو ں جُرأت کی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک عظیم الشان ادب اسرارِ الٰہی کے دریافت کرنے میں ایک عظیم الشان نبی کے ذریعہ سکھایا کہ جب وہ نبی صاحبِ شریعت باوجود عالی مرتبہ ہونے کے اسرار الٰہی میں ادب کی طرف راہبر کئے گئے تو تم اُمتی ہوکر بہت ڈر کر قدم رکھو۔یہ ایسے امور ہیں کہ ظاہری شریعت کو تو منسوخ کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں مگر دراصل وہ شریعت کے اسرار ہوتے ہیں جس کی کنہ دراز کو معلوم کرنا انسان کا کام نہیں۔جب تک کہ وہ علام الغیوب اپنے فضل و کرم سے خود مطلع نہ کرے۔‘‘ (الحکم جلد ۷ نمبر ۲۳ مورخہ ۲۴ ؍جون۱۹۰۳ء صفحہ ۱۵، ۱۶) ۲ الحکم سے۔’’واجب القتل نہ ٹھیرا اورنہ قصاص لازم آیا اس لیے کہ وہ مامور تھا۔‘‘ (الحکم جلد ۷ نمبر ۲۳ مورخہ ۲۴ ؍جون۱۹۰۳ء صفحہ ۱۶ ) ۳ الحکم میں ہے۔’’پیمانہ شریعت ظاہری سے ہر ایک اَمر کو ماپنا غلطی ہوتی ہے۔‘‘ (الحکم جلد ۷ نمبر ۲۳ مورخہ ۲۴ ؍جون۱۹۰۳ء صفحہ ۱۶ ) ۴ البدر جلد ۲نمبر ۲۲ مورخہ ۱۹ ؍جون ۱۹۰۳ءصفحہ ۱۷۰،۱۷۱