ملفوظات (جلد 5) — Page 164
خدا کا ہے۔ہرایک نور اور طاقت آسمان سے ہی آتی ہے۔۳ ۶؍ جون ۱۹۰۳ء طبابت کا پیشہ ڈاکٹری کے امتحان کا ذکر تھا اس پر فرمایا کہ پاس کے خیال میں مستغرق ہوکر اپنی صحت کو خراب کرلینا ایک مکروہ خیال ہے۔اوّل زمانہ کے لوگ علم اس لیے حاصل کرتے تھے کہ توکّل اور رضائے الٰہی حاصل ہو۔اور طبابت تو ایسا فن ہے کہ اس میں پاس کی ضرورت ہی کیا ہے؟ جب ایک طبیب شہرت پاجاتاہے تو خواہ فیل ہو مگر لوگ اس کی طرف رجوع کرتے ہیں۔تحصیلِ دین کے بعد طبابت کا پیشہ بہت عمدہ ہے۔۴ ۱ الحکم میں یہ عبارت یوں بیان ہوئی ہے۔’’اس نے کہا کہ پہلے آپ کا نام مبارک مجھے تمام ناموں سے زیادہ مذموم معلوم ہوتا تھا مگر اب تمام ناموں سے زیادہ محمود وپیارا معلوم ہوتا ہے اور اس شہر کو جس میں آپ رہتے ہیں میں حقارت کی نگاہ سے دیکھا کرتا تھا مگر اب یہی محبوب ترین نظر آتا ہے۔یہ کیا بات تھی جس نے اس شخص کو گرویدہ بنا لیا؟ یہ حضور علیہ السلام کی توجہ کااثر تھا۔‘‘ (الحکم جلد ۷ نمبر ۲۳ مورخہ ۲۴ ؍جون۱۹۰۳ء صفحہ ۱۴ ) ۲ صحابہ ؓ کے اخلاص کا ذکر الحکم میں ان الفاظ میں ہے۔’’ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے حالات کو دیکھ کر سن کرتعجب آتا ہے کہ انہوں نے نہ گرمی دیکھی اور نہ سردی اور نہ عزّت اور نہ آبرو۔سب دنیوی فخر و ناز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر خاک میں ملا دیا۔ہر ایک ذلّت آپ کی نافرمانبرداری میں اور ہر ایک عزّت آپ کی اطاعت میں ہی دیکھی۔بھیڑ و بکری کی طرح آپ کے لیے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ذبح ہوگئے۔کوئی قوم کوئی مذہب دنیا میں ہے جو سچی قربانی کی مثال صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے بڑھ کر دکھا سکے؟ جان دے کر سچا اخلاص دکھانا اسی کو کہتے ہیں۔ان کے نفس بالکل کدورتِ دنیا سے پاک ہوچکے تھے جیسے کوئی گھر سے نکل کر ڈیوڑھی پر کھڑا ہو کر سفر کے لیے تیار ہوتا ہے ویسے ہی وہ دنیا کو چھوڑ کر آخرت کے واسطے تیار تھے۔‘‘ (الحکم جلد ۷ نمبر ۲۳ مورخہ ۲۴ ؍جون۱۹۰۳ء صفحہ ۱۴، ۱۵)