ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 165 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 165

۷؍جون ۱۹۰۳ء (مجلس قبل ازعشاء) ایمان لانے کے مختلف طریق ایک شخص نے حضرت اقدس کی بیعت کی نسبت کچھ بشارات خدا تعالیٰ سے پائی تھیں وہ حضرت اقدس کی خدمت میں تحریر کرکے روانہ کی تھیں حضرت اقدس نے ان کو سن کر فرمایا کہ جو لوگ فطری امور کی استعدا دنہیں رکھتے اللہ تعالیٰ ان کو بذریعہ رؤیا کے سمجھا دیتا ہے۔آنحضرت کے معجزات میں سے بھی یہ بات تھی کہ لوگ رؤیا دیکھتے اور بعض وہ تھے جو کہ آپ کے جودوسخا کو دیکھ کر ایمان لائے اور پھر آپ نے سب کو ایک ہی راہ سے گذرانا۔یہ ایک مشکل کام ہے کہ ہر ایک کی رعایت بھی مدنظر رہے اور پھر ایک ہی راہ سے سب کو گذارا جاوے۔۱ آپ پر ایمان لا نے کے مختلف طریق تھے بعض اخلاق دیکھ کر ایمان لائے تھے۲ غرضیکہ آدم سے لے کر آنحضرت تک جس قدر طریق جمع ہوسکتے تھے وہ سب آپ میں جمع تھے یہ بھی ایک مجموعہ جمع کرنے کے قابل ہے کہ اسلام میں داخل ہونے کے طریق کیا کیا تھے۔آنحضرت کے آثار میں سے ایک توجہ کا بھی حصہ ہے کہ جو لوگ قسی القلب تھے وہ بھی کھچے چلے آتے تھے ایک دفعہ ایک بادشاہ ثمامہ کو باندھا گیا آپ اس کے حالات ہر روز دریافت کرتے ۱ الحکم سے۔’’جو لوگ اللہ کے لیے کچھ کھوتے ہیں وہ اس سے کہیں زیادہ پالیتے ہیں۔‘‘ (الحکم جلد ۷ نمبر ۲۳ مورخہ ۲۴ ؍جون۱۹۰۳ء صفحہ ۱۵) ۲ الحکم سے ’’ مگر چونکہ انہوں نے پورے اخلاص سے اپنے اتنے کچھ اندوختہ کو راہِ مولا میں قربان کیا۔اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کے اجر میں آپ کو قیصرو کسریٰ کے خزائن کا مالک کر دیا۔سب کچھ کامل ایمان و سچے اخلاص سے ملتا ہے۔‘‘ (الحکم جلد ۷ نمبر ۲۳ مورخہ ۲۴ ؍جون۱۹۰۳ء صفحہ ۱۵) ۳ الحکم میں یہ عبارت یوں ہے۔’’ اللہ تعالیٰ ہر ایک مومن پر طرح طرح کے ابتلا اور آزمائش لاتا ہے کسی کو جنگ میں آزمانے سے، کسی کو روپیہ پیسہ سے، کسی کو بیٹے کے قربان کر نے سے جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو۔‘‘ (الحکم جلد ۷ نمبر ۲۳ مورخہ ۲۴ ؍جون۱۹۰۳ء صفحہ ۱۵)