ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 121 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 121

۷؍مئی ۱۹۰۳ء (قبل از عشاء) عورتوں کے حقوق فرمایا کہ عورتوں کے حقوق کی جیسی حفاظت اسلام نے کی ہے ویسی کسی دوسرے مذہب نے قطعاً نہیں کی۔مختصر الفاظ میں وَ لَهُنَّ مِثْلُ الَّذِيْ عَلَيْهِنَّ (البقرۃ: ۲۲۹) ہر ایک قسم کے حقوق بیان فرما دیئے۔یعنی جیسے حقوق مَردوں کے عورتوں پر ہیں ویسے ہی عورتوں کے مَردوں پر بھی ہیں بعض لوگوں کا حال سنا جاتا ہے کہ ان بچاریوں کو پاؤں کی جوتی کی طرح جانتے ہیں اور ذلیل ترین خدمات ان سے لیتے ہیں۔گالیاں دیتے، حقارت کی نظر سے دیکھتے اور پردہ کے حکم کو ایسے ناجائز طریق سے کام میں لاتے ہیں کہ گویا وہ زندہ در گور ہوتی ہیں۔چاہیے کہ عورتوں سے انسان کا دوستانہ طریق اور تعلق ہو۔اصل میں انسان کے اخلاق فاضلہ اور خدا سے تعلق کی پہلی گواہ تو یہی عورتیں ہوتی ہیں اگر ان سے اس کے تعلقات اچھے نہیں تو پھر خدا سے کس طرح ممکن ہے کہ صلح ہو۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ خَیْرُکُمْ خَیْرُکُمْ لِاَھْلِہٖ اپنی بیوی سے اچھا سلوک کرنے والا ہی تم میں سے بہترین ہے۔۱ ۸ ؍مئی ۱۹۰۳ء (مجلس قبل از عشاء) محمد حسین بٹالوی اور قرآن کریم کی بے ادبی ’’یہ ظاہری تُک بندی تومسیلمہ نے بھی کر لی تھی اس میں قرآن شریف کی خصوصیت کیا ہے۔‘‘یہ ایک کلمہ ہے جو کہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اوّل المکفّرین کی قلم سے قرآن کریم کی شان ۱ الحکم جلد ۷ نمبر ۱۸ مورخہ ۱۷؍مئی ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۲،البدر جلد ۲ نمبر۱۸ مورخہ ۲۲؍مئی ۱۹۰۳ء صفحہ۱۳۷