ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 115 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 115

چاہتے ہیں ان تمام فرقوں میں ایسے ایسے اختلاف پڑے ہیں کہ ایک دوسرے کو تکفیر کے فتوے لگائے جاتے ہیں اور ارتداد کا جرم ان میں سے ہر ایک کی گردن پر سوارہے حنفی وہابیوں کو اور وہابی حنفیوں کو جہنمی بتا تے ہیں شیعہ ان سب کو راہ راست سے بھٹکے ہوئے کہتے ہیں۔خارجی ہیں سووہ شیعہ کی جان کے دشمن ہیں غرض ہر ایک فرقہ دوسروں کے خون کا پیاسا ہے اب ان میں سے اختلاف کے دور کرنے کے واسطے جو حَکم آوے گا کیا وہ ان کی مساوی باتوں کو مان لے گا؟اگر ایسا کرے گا تو دوسرا ناراض ہو جاوے گا۔یہاں ہر ایک فرقہ یہی چاہتا ہے کہ میری اگر ساری باتیں وہ نہ مانے گا تو وہ خدا کی طرف سے نہ ہوگا۔غرض ہر ایک نے اس کے صدق کا معیار اس کے تمام عقائد کو مان لینا مقرر کیا ہوا ہے مگر کیا وہ ایسا ہی کرے گا؟ ہرگز نہیں بلکہ وہ ہر ایک راستی کا حامی اور ناراستی کا دشمن ہوگا اگر ایسا نہیں تووہ حَکم ہی کس کام کا ہوا؟ اور ایسے کی ضرورت ہی کیا ہے اس کے وجود سے عدم بہتر ہے۔اصل مشکل یہ ہے کہ ان بےچارے لوگوں کی عادت ہی ہو گئی ہے اور بچپن سے کان میں ہی یہی پڑتا آیا ہے کہ وہ اس طرح آسمان سے ایک مینار پر اترے گا پھر سیڑھی مانگے گا اور دوفرشتوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر وہ نیچے اتر ے گا پس آتے ہی نہ بھلی نہ بری کفار کو تہ تیغ کرکے ان کے اموال واملاک سب مسلمانوں کے حوالے کرے گا وغیرہ وغیرہ۔ان باتوں کو جو مدتوں سے سادہ لوح پر کندہ ہو گئی ہیں دور کریں تو کس طرح؟ وہ بےچارے معذور ہیں یہ مشکلات ہیں اور ان کادور ہونا بجز خدا تعالیٰ کی خشیت کے ہرگز ممکن نہیں۔(قرآن نے) تَوَفَّیْتَنِیْ فرمایا اور بخاری نے اپنا مذہب اور اس آیت کے معنے بیان کر دئیے کہ مُتَوَفِّيْكَ۔مُـمِیْتُکَ تو پھر اس کے بعد خواہ نخواہ ان کو زندہ آسمان پر بٹھا نا ان لوگوں کی کیسی غلطی ہے وہ بے چارہ توخود بھی دہائی دیتا ہے کہ یہ لوگ میرے مَرنے کے بعد بگڑے ہیں بھلا اب ہمیں کوئی بتادے کہ یہ لوگ ابھی بگڑے ہوئے ہیں یا نہیں۔اگر یہ بگڑے ہیں تو مسیح وفات پا چکے ہیں ورنہ ان کے تثلیث کفار ے اور علاوہ اعتقادات پر ایمان لاؤ اور آنحضرتؐکی نبوت کا انکار کرو۔۔۔۔یہ جواللہ تعالیٰ