ملفوظات (جلد 5) — Page 114
بنا پر جب حضرت مسیحؑ آئے اور انہوں نے یہود کو ایمان کی دعوت کی تو انہوں نے صاف انکار کیا کہ ہمارے ہاں مسیحؑ کی علامت یہ ہے کہ اس سے پہلے ایلیا آسمان سے دوبارہ نازل ہوگا مگر حضرت مسیحؑ نے اس کی یہی تاویل کی تھی کہ یہی شخص یعنی یوحنا (یحییٰ) ہی الیاس اور یہ اس کی (الیاس) خو بو لے کر آیا ہے اسی کو ایلیا مان لو۔وہ آسمان سے دوبارہ نہیں آوے گا جس نے آنا تھا وہ آچکا۔چاہو مانو چاہو نہ مانو۔غرض حضرت عیسیٰ پر بھی یہ ایک مصیبت پڑ چکی تھی اور ان کا فیصلہ ہمارے اس مقدمہ کے لیے ایک دلیل ہوسکتا ہے اگر حضرت عیسٰیؑ یہود کے مقابل میں حق پر تھے تو ہمارا معاملہ بھی صاف ہے ورنہ پہلے حضرت عیسٰیؑ کی نبوت کا انکار کریں بعد میں ہمارا معاملہ آئے گا۔اگر واقعی طور پر ان یہودیوں کی طرح یہ یہودی بھی حق پر ہیں تو پھر اوّل تو حضرت عیسٰیؑ کی نبوت کا ثبوت نہیں توان کا آسمان سے آنا کجا؟ پس یاتو یہ مسلمان اس بات کو مان لیں کہ آسمان پر کوئی شخص زندہ نہیںجایا کرتا اورنہ ہی وہ دوبارہ واپس آیا کرتے ہیں اور وہ اسی قاعدے کے مطابق حضرت عیسیٰ کو دوسرے انبیاء کی طرح وفات پائے ہوئے مان لیں اور یا حضرت عیسٰیؑ کی نبوت سے انکار کریں اور اس طرح پر ان کی آمد کے متعلق تمام امیدوں سے ہاتھو دھولیں غرض ان کی منفرد اور خاص قسم کی زندگی ایک خطرناک قسم کا شرک ہے غرض دوسری قسم کے دلائل عقلی تھے سوان کے رُو سے بھی یہ قوم ملزم ہے۔۱ (۳) تیسرا ذریعہ ایک صادق کی شناخت کااس کے ذاتی نشانات اور خارق عادت پیشگوئیاں ہوتی ہیں اور منہاج نبوت پر پرکھی جاتی ہیں سواس قسم کے دلائل بھی اللہ تعالیٰ نے اس جگہ بہت جمع کر دئیے ہیں کیا زمینی، کیا آسمانی، کیا مکانی، کیا زمانی، ہر قسم کے نشانات اس نے خود ہمارے لیے ظاہر فرمائے ہیں۔آنحضرت کی اکثر پیشگوئیوں کا ظہور بھی ہو چکا ہے آسمان نے ہمارے لیے گواہی دی زمین ہمارے واسطے شہادت لائی اور ہزاروں خارق عادت ظہور میں آچکے ہیں۔زمانہ ہے سووہ خود زبانِ حال سے چلّا رہا ہے کہ ضرور کوئی آنا چاہیے قوم کے ۷۳ فرقے ہوگئے ہیں یہ خودایک حَکم کو ۱الحکم جلد۷ نمبر ۱۷ مورخہ ۱۰؍مئی ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۶