ملفوظات (جلد 5) — Page 116
نے سورۃ فاتحہ میں فرمایا ہے کہ غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَ لَا الضَّآلِّيْنَ(الفاتـحۃ:۷)اس میں ہم نے غور کیا تومعلوم ہوتا ہے کہ آنے والے شخص میں دو قسم کی صفات کی ضرورت ہے اوّل تو عیسوی صفات اور دوسرے محمدی صفات کی کیونکہ مَغْضُوْبِ عَلَیْـہِمْ سے مُراد یہود اور اَلضَّآلِّیْنَ سے مُراد نصاریٰ ہیں جب یہود نے شرارت کی تھی تو حضرت عیسٰیؑ ان کے واسطے آئے تھے جب نصاریٰ کی شرارت زیادہ بڑھ گئی تو آنحضرتؐتشریف آور ہوئے تھے اور یہاں خدا تعالیٰ نے دونوں کا فتنہ جمع کیا اندرونی یہود اور بیرونی نصاریٰ جن کے لیے آنے والا بھی آنحضرت کا کامل بروزاور حضرت عیسیٰؑ کا پورا نقشہ ہونا چاہیے تھا۔حَکم کا مقام حَکم کے سامنے کسی کی پیش ہی کیا جاتی ہے اور اس سے ان کی بحث ہی کیا۔یہ زمینی وہ آسمانی۔یہ نا قابل محض، وہ ہر وقت خدا سے تعلیم پاتا۔یہ لوگ ہمیں رطب ویابس احادیث اور اقوال کا انبار پیش کرکے ہرانا چاہتے ہیں مگر یہ کیا کریں ہمیں تو تیس سال ہوئے کہ خود خدا ہر وقت تازہ الہامات سے خبر دیتا ہے کہ یہ اَمرِ حق ہے جو تو لایا ہے تیرے مخالف نا حق پر ہیں ہم اب کیا کریں ان لوگوں کی مانیں یا آسمان سے خدا کی مانیں۔سوچنے والے کے واسطے کافی ہے کہ صدی کا سر بھی گذرگیا ہے اور تیرھویں صدی تو اسلام کے واسطے سخت منحوس صدی تھی ہزاروں مرتد ہو گئے یہود خصلت بنے اور جو ظاہر میں مرتد نہیں اگر باریک نظر سے دیکھا جاوے تووہ بھی مرتد ہیں ان کے رگ وریشے میں دجّال نے اپنا تسلّط کیا ہوا ہے پوشاک تک ان کی بدل گئی ہے تو دل ہی نہ بدلے ہوں گے۔صرف بعض خوف سے یا بعض اَور وجوہات سے اظہار نہیں کرتے ورنہ ہیں وہ بھی مرتد اپنے دین کی خبر نہ ہوئی دوسروں کے زیراثر ہوئے تواب ارتداد میں کَسرہی کون سی باقی رہ گئی اگر اب بھی ان کا مہدی اور مسیح نہیں آیا تو کب آئے گا؟ جب اسلام کا نام ہی دنیا سے اٹھ جاوے گا اور یہ بیڑاہی غرق ہو جاوے گا۔افسوس کہ قوم آنکھیں بند کئے پڑی ہے اور اسے اپنی حالت سے بھی خبر نہیں۔فقط۱ ۱ الحکم جلد ۷نمبر ۱۸ مورخہ ۱۷؍مئی ۱۹۰۳ءصفحہ۲