ملفوظات (جلد 5) — Page 105
چھوڑدیتے ہیں۔غرض یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے واسطے کھونے والوں کو سب کچھ دیا جاتا ہے۱ اور وہ نہیں مَرتے ہیں جب تک وہ اس سے کئی چند نہ پا لیں جو انہوں نے خدا کی راہ میں دیا ہے خدا تعالیٰ کسی کا قرض اپنے ذمہ نہیںرکھتا ہے مگر افسوس یہ ہے کہ ان باتوں کو ماننے والے اور ان کی حقیقت پر اطلاع پا نے والے بہت ہی کم لوگ ہیں۔ہزاروں اہل صدق ووفا گذرے ہیں مگر کسی نے نہ دیکھا ہوگا اور نہ کسی نے سنا ہوگا کہ وہ ذلیل وخوار ہوتے ہوں دنیوی امور میں اگر وہ نہایت درجہ کی ترقی کرتے تو زیادہ سے زیادہ تین چار آنے کی مزدوری کر لیتے اور کسمپرس اور گمنا م لوگوں میں سے ہوتے مگر جب انہوں نے اپنے آپ کو خدا کی راہ میں لگایا تو خدا نے ان کو ایسا کیا کہ تمام دنیا میں نام آور بن گئے اور ان کی عزّت وعظمت دلوں میں بٹھا ئی گئی اور اب ان کے نام ستاروں کی طرح چمکتے ہیں۔دنیوی عظمت اور عزّت بھی بذریعہ دین ہی حاصل ہوتی ہے پس مبارک وہی ہے جو دین کو مقدم کرے۲ دیکھو ایک جو نک کی نسبت بیل کو اور ایک بیل کی نسبت انسان کو اور انسانوں میں خواص کو اللہ تعالیٰ نے لذات اور حظوظ دئیے ہوئے ہیں اور خواص کو خاص قویٰ لذتوں کے ملتے ہیں۔اسی طرح جو لوگ خدا کے مقرّب ہو کر خواص بنتے ہیں تو ان کو دنیوی لذائذ وغیرہ بھی اعلیٰ درجہ کے ہوتے ہیں۳ ایک پنجابی شعر ہے جو بالکل کلام الٰہی کے موافق اسی کا گویا تر جمہ ہے کہ جے توں میرا ہورہیں سب جگ تیرا ہو ۱البدرمیںہے۔’’زمینی گورمنٹوں کے لیے جو ذرا سا کچھ گنواتا ہے ان کو اجر ملتا ہے تو جو خدا کے لیے گوائے کیا اُسے اجر نہ ملے گا۔‘‘ (البدر جلد۲نمبر ۱۶ مورخہ ۸؍مئی ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۲۳) ۲ البدر میں ہے۔’’لوگ اسباب پر گرتے ہیں۔ایمان نہیں ہوتا۔اسی لیے دکھ اٹھاتے ہیں۔ٹھوکریں کھاتے ہیں۔‘‘ (البدر جلد۲نمبر ۱۶مورخہ ۸ ؍مئی۱۹۰۳ء صفحہ ۱۲۳) ۳البدر میں ہے۔’’پس جو انسان، خواص انسان ہیں۔وہ اسی طرح ان لذّات میں زیادہ لذّت پاتے ہیں۔اس سے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دنیوی تمام لذّات میں خواص کا ہی حصّہ زیادہ ہے۔‘‘ (البدر جلد ۲ نمبر۱۶ مورخہ ۸ ؍مئی ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۲۳)