ملفوظات (جلد 5) — Page 106
پس خدا تعالیٰ کے خاص بند ے بننے کی کوشش کرنی چاہیے۔۱،۲ ۳؍ مئی ۱۹۰۳ء (بوقتِ سیر) خواب کی اقسام ایک نو وارد صاحب نے سوال۳ کیا کہ خواب کیا شَے ہے؟ میرے خیال میں تو یہ صرف خیالات انسانی ہیں حقیقت میں کچھ نہیں۔فرمایا کہ خواب کی تین قسمیں ہیں۔نفسانی۔شیطانی۔رحمانی نفسانی جس میں انسان کے اپنے نفس کے خیالات ہی متمثّل ہو کر آتے ہیں جیسے بلی کو چھچھڑوں کے خواب۔شیطا نی وہ جس میں شیطا نی اور شہوانی جذبا ت ہی نظر آویں۔رحما نی وہ جس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبریں دی جاتی ہیں اور بشارتیں دی جاتی ہیں۔سوال۴ کیا کسی بدکار آدمی کو بھی نیک خواب آتی ہے؟ جواب۔فرمایا کہ ایک بدکار آدمی کو بھی نیک خواب آجاتی ہے کیونکہ فطرتاً کوئی بد نہیں ہوتا خدا تعالیٰ فرماتا ہے مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ (الذّاریٰت:۵۷) تو جب عبادت کے واسطے سب کو پیدا کیا ہے۔سب کی فطرت میں نیکی بھی رکھی ہے اور خواب۔۔۔۔نبوت کا حصہ بھی ہے اگر یہ نمونہ ہر ایک کو نہ دیا جاتا تو پھر نبوت کے مفہوم کو سمجھنا تکلیف مالا یطاق ہوجاتا۔اگر کسی کو علمِ غیب بتلایا جاتا وہ ہرگز نہ سمجھ سکتا۔بادشاہِ مصر جو کہ کافر تھا اسے سچی خواب آئی مگر آج کل سچی خواب کا انکار دراصل خدا کا انکار ہے اور اصل میں خدا ہے اورضرور ہے۔اسی کی طرف سے بشارتیں ہوتی ہیں اور نیک خوابیں آتی ہیں اور وہ پوری بھی ہوتی ہیں جس قدر انسان صدق اور راستی میں ترقی کرتا ہے ویسے ہی نیک اور مبشر رئویا بھی آتے ہیں۔۱ البدر میں مزید یوں لکھا ہے۔’’مجھے خواب میں دو دفعہ پنجابی مصرے بتلائے گئے ہیں ایک تو یہی جو بیان ہوا۔(’’جے تو ں میرا ہورہیںسب جگ تیرا ہو‘‘مُراد ہے۔مرتّب) اور ایک دفعہ میں نے دیکھا کہ ایک وسیع میدان ہے اس میں ایک مجذوب (جس میں محبت الٰہی کا جذبہ ہو) میری طرف آرہا ہے۔جب میرے (قریب) پہنچا تو اُس نے یہ پڑھا۔عشق الٰہی وسّے مُنہ پر ولیاں ایہہ نشانی (ولیوں کی یہ نشانی ہے کہ عشقِ الٰہی منہ پر برس رہا ہوتا ہے۔‘‘) (البدر جلد ۲ نمبر۱۶مورخہ ۸ ؍مئی ۱۹۰۳ءصفحہ ۱۲۳ ) ۲ الحکم جلد ۷ نمبر ۱۷ مورخہ ۱۰؍ مئی ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۳،۱۴ ۳،۴ الحکم جلد ۷ نمبر ۱۹ میں صفحہ ۲ پر یہ سوال اور اُن کے جواب بغیر تاریخ کے ’’استفسار اور ان کے جواب‘‘ کے زیر عنوان درج ہیں۔(مرتّب)