ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 2 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 2

ہے۔ہم نے اب سے پہلے کسی الہامی عبارت میں اس قسم کے الفاظ نہیں دیکھے اس کے معنے جو ہما رے خیال میں آتے ہیں یہ ہیں کہ ایسا شخص بمنزلہ توحید ہی ہوتا ہے جو ایسے وقت میں مامور ہو کہ جب دنیا میں توحید الٰہی کی نہایت ہتک کی گئی ہو اور اسے نہایت ہی حقارت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہو۔۱ ایسے وقت میں آنے والا توحید مجسم۲ ہوتا ہے ہرشخص اپنا ایک مقصد اور غایت مقرر کرتا ہے مگر اس شخص کا مقصودو مطلوب اللہ تعالیٰ کی توحید ہی ہوتی ہے وہ اللہ تعالیٰ کی توحید کو اپنے طبعی جذبا ت اور مقاصد سے بھی مقدم کرلیتا ہے۔اپنی ساری ضرورتوں کو پیچھے ڈال دیتا ہے۔اسی طرح پرہر ایک شخص کا اپنے مقاصد کا ایک بت ہوتا ہے اور وہ اس تک پہنچنا چاہتا ہے مگر یہ اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہوتا ہے کہ اس تک پہنچا دے یا اس کی عمر کا پہلے ہی خاتمہ کردے۔وہ اپنے مال یا عزّت وآبرو، بال بچوں یا دوسری حوائج کے لیے تڑپتا ہے اور بے خود ہوتا ہے اور بسا اوقات لوگ انہیں مشکلات میں پڑکر خود کشی بھی کرلیتے ہیں مگر وہ شخص جو خدا کی طرف سے ما مور ہو کر آتا ہے اس کا یہی جوش خدا تعالیٰ کی توحید کے لئے ہو جاتا ہے اوراپنی نفسا نی خواہشوں کی بجائے خدا تعالیٰ کی توحید کے لیے مضطرب اور بے خود ہوتا ہے۔۱ میں سمجھتا ہوں کہ ایسے وقت میں یہ الفاظ خدا تعالیٰ کی طرف سے آتے ہیں کہ اَنْتَ مِنِّیْ بِـمَنْزِلَۃِ تَوْحِیْدِیْ وَتَفْرِیْدِیْ کیو نکہ اللہ تعالیٰ کو اپنی توحید بہت ہی پیاری ہے۔یہ توحید تھی جس کے واسطے اللہ تعالیٰ نے کبھی وبا کبھی قحط اور کبھی اپنے پیارے انبیاء علیہم السلام کے ہاتھ کی تلوار سے اس کے قیا م کے واسطے ہزاروں مشرک جانوں کو تباہ کر دیا۔مکہ و مدینہ منورہ کے حالات بھی صرف اسی کی خاطر پیچیدہ ہوئے تھے۔موسیٰ علیہ السلا م کا معاملہ بھی اسی توحید کے لیے تھا۔۲ عقیدہ کی اہمیت عقیدہ ہی سے اعمال میں قوت آتی ہے جیسا قوی اور کامل عقیدہ ہو ویسے ہی اس کے مطابق اعمال صادر ہوں گے۔اگر عقیدہ ہی زنگ آلو دہ اور کمزور اور مُردہ ہوگا تو پھر اعمال کی کیا توقع ہوسکتی ہے۔اگرچہ ظاہر اعمال نماز روزہ میں تو تمام مسلمان باہم مشترک ہیں اور اکثر بجا لاتے ہیں۔مگر پھر ان کے نتائج میں برکات کے اختلاف کا با عث جو ہے تو صرف یہی عقیدہ ہے جن کے عقائد عمدہ اور کامل ہوتے ہیں ان کے لیے نتائج عمدہ اور برکات کثرت سے نازل ہوتے ہیں مگر کمزور عقائد والے اپنے اعمال کی قوت پر تو نگاہ نہیں کرتے برکات کے نہ ملنے کی شکایت کرتے ہیں۔۱البدر سے۔’’کہ خدا کی خواہشات اس کی توحید اور عظمت اور جلال غالب آویں۔‘‘ (البدر جلد ۲نمبر ۱۲ مورخہ ۱۰؍اپریل ۱۹۰۳ء صفحہ ۹۱) ۲ البدر سے۔’’طاعون وغیرہ قحط اور دیگر بَلائوں سے ملک کے ملک ہلاک ہوئے تو آخر توحید پیاری تھی تو یہ ہوا۔‘‘ (البدر جلد ۲نمبر ۱۲ مورخہ ۱۰؍اپریل ۱۹۰۳ء صفحہ ۹۱)