ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 3 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 3

مگر پھر ان کے نتائج میں برکات کے اختلاف کا با عث جو ہے تو صرف یہی عقیدہ ہے جن کے عقائد عمدہ اور کامل ہوتے ہیں ان کے لیے نتائج عمدہ اور برکات کثرت سے نازل ہوتے ہیں مگر کمزور عقائد والے اپنے اعمال کی قوت پر تو نگاہ نہیں کرتے برکات کے نہ ملنے کی شکایت کرتے ہیں۔عداوت کا فائدہ فرمایا۔محبت اور عقیدت کی توجہ تو ایک جدا اَمر ہے مگر عداوت کی توجہ بھی بے فائدہ نہیں ہوتی بلکہ مفیدہو تی ہے۔دیکھوآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مکہ کے زمانے میں آپ کے مقابل میں محبت اور عقیدت کی توجہ تو نہایت ہی کم بلکہ کچھ بھی نہ تھی مگر عداوت کی توجہ کامل طور سے تھی اور آخر یہی عداوت کی توجہ آپؐکی عام لوگوں اور عرب کے کناروں میں شہرت پہنچانے کا باعث ہوگئی ورنہ آپ کے پاس اس وقت اور کیا ذریعہ تھا جو اپنی دعوت کو اس طرح شائع کرتے۔آپ کے واسطے اس وقت تبلیغ کا پہنچانا نہا یت مشکل تھا مگر خدا تعالیٰ نے یہ کام کیا کہ دشمنوں ہی کے ہاتھوں سے ایسا کرادیا۔۱ اب موجودہ زما نے میں ہمارے دشمن بھی ایسا ہی کرتے ہیں اگرچہ اس وقت کی فوری حالت ایسی ہوتی ہے کہ ہماری جماعت کو ان لوگوں کی کارروائیوں سے رنج اور صدمہ ہوتا ہے مگر ان کی کارروائیوں کا انجام ہمارے مفید مطلب اور بخیر ہوتا ہے۔اصل میں ان لوگوں کی گالیاں تو ایسی ہیں جیسے عورتیں شادی کے موقع پر لڑکے والوں کو دیتی ہیں۔ان سے اس وقت کون ناراض ہوتا ہے؟ یہی مآل ان مخا لفوں کی گالیوں کا ہے۔یہ گالیاں ہما رے مفید مطلب ہیں۔یہ ہماری تبلیغ کا ذریعہ بنتی ہیں اور سعید اور شریف ان کی گالیوں ہی سے اندازہ کرلیتے ہیں کہ حق کس کے پاس ہے۔اسی طرح پر ہماری جماعت ان میں سے ہی نکل کرآئی ہے اور دن بدن نکلتی آتی ہے۔۱ البدر سے۔’’آپ کے بعد مسیلمہ کذّاب وغیرہ بھی مدعی ہوئے مگر اُن کو کسی نے پوچھا بھی نہ۔‘‘ (البدر جلد ۲نمبر ۱۲ مورخہ ۱۰؍اپریل ۱۹۰۳ء صفحہ ۹۱)