ملفوظات (جلد 5) — Page 1
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ وَعَلٰی عَبْدِہِ الْمَسِیْحِ الْمَوْعُوْدِ ملفوظات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ۲ ؍ اپریل ۱۹۰۳ء (دربارِ شام) ایک الہام کے معنی فرمایا۔اللہ تعالیٰ کا ہما رے ساتھ بھی عجیب معاملہ ہے۔ہمارا یہ الہام کہ اَنْتَ مِنِّیْ بِـمَنْزِلَۃِ تَوْحِیْدِیْ وَتَفْرِیْدِیْ ایک نئی طرزکا الہام ہے۔ہم نے اب سے پہلے کسی الہامی عبارت میں اس قسم کے الفاظ نہیں دیکھے اس کے معنے جو ہما رے خیال میں آتے ہیں یہ ہیں کہ ایسا شخص بمنزلہ توحید ہی ہوتا ہے جو ایسے وقت میں مامور ہو کہ جب دنیا میں توحید الٰہی کی نہایت ہتک کی گئی ہو اور اسے نہایت ہی حقارت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہو۔۱ ایسے وقت میں آنے والا توحید مجسم۲ ہوتا ہے ہرشخص اپنا ایک مقصد اور غایت مقرر کرتا ہے مگر اس شخص ۱البدرمیں مزید یہ فقرہ ہے۔’’اور شرک کی عظمت اور قدر کی جاتی ہو۔‘‘ (البدرجلد۲نمبر۱۲مورخہ ۱۰؍۱پریل ۱۹۰۳ءصفحہ۹۱) ۲البدر میں یہ مضمون یوں ہے۔’’اس شخص مامور شدہ کو توحید کی پیاس ایسی لگائی جاتی ہے کہ وہ تمام اپنے اغراض اور مقاصد کو ایک طرف رکھ کر توحید کے قائم کرنے میں خود ایک مجسم توحید ہوجاتا ہے اس کے اُٹھنے بیٹھنے اور حرکت اور سکون اور ہر ایک قول و فعل میں توحید کی لَو اسے لگی ہوئی ہوتی ہے۔‘‘ (البدرجلد۲نمبر۱۲ مورخہ ۱۰؍اپریل ۱۹۰۳ءصفحہ۹۱)