ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 352 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 352

اخلاق کی حقیقت دیکھو! ارنڈ کا تیل اور کھانڈکیسے غلیظ ہوتے ہیں لیکن جب خوب صاف کیا جاوے تو مصفّٰی ہو کر خوش نما ہو جاتے ہیں۔یہی حال اخلاق اور صفات کا ہے۔اصل میں صفات کل نیک ہوتے ہیں جب ان کو بے موقع اور ناجائز طور پر استعمال کیا جاوے تو وہ برے ہو جاتے ہیں اور ان کو گندہ کردیا جاتا ہے لیکن جب ان ہی صفات کو افراط تفریط سے بچا کر محل اور موقع پر استعمال کیا جاوے تو ثواب کے موجب ہو جاتے ہیں۔قرآن مجید میں ایک جگہ فرمایا ہے مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ (الفلق:۶) اور دوسری جگہ اَلسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ (التوبۃ:۱۰۰) اب سبقت لے جانا بھی تو ایک قسم کا حسد ہی ہے سبقت لے جانے والا کب چاہتا ہے کہ اس سے اورکوئی آگے بڑھ جاوے۔یہ صفت بچپن ہی سے انسان میں پائی جاتی ہے اگربچوں کو آگے بڑھنے کی خواہش نہ ہو تو وہ محنت نہیں کرتے اور کوشش کرنے والے کی استعداد بڑھ جاتی ہے سابقون گویا حاسد ہی ہوتےہیں لیکن اس جگہ حسد کا مادہ مصفّٰی ہو کرسابق ہو جاتا ہے اسی طرح حاسد ہی بہشت میں سبقت لے جاویں گے۔اسی طرح سے غضب اگر موقع اورمحل پر استعمال کیا جاوے تووہ ایک صفت محمود ہے وہ انسان ہی کیا ہے جسے مستورات کی عصمت کی محافظت کے لیے بھی غضب نہ پیدا ہوتا ہو۔حضرت عمر ؓ میں غضب اورغصہ بہت تھا۔مسلمان ہونے کے بعد کسی نے آپ سے پوچھا کہ اب وہ غضب اور غصہ کہاں گیا؟ فرمایا کہ غضب تو اسی طرح میرے میں ہے لیکن آگے بے محل اور بے موقع اور ظلم کے رنگ میں تھا اور اب محل اور موقع پر استعمال ہوتا ہے اب انصاف کے رنگ میں ہے۔صفات بدلتے نہیں ہیں ہاں ان میں اعتدال آ جاتا ہے۔اسی طرح گلہ کرنا ناجائزہے لیکن استاد یا ماں با پ اگر گلہ کریں تو وہ قابل مذمت نہیں کیونکہ مرشد، استا د یا با پ اگر گلہ کرتے ہیں تو وہ اس کی ترقی کے لیے گلہ کرتے ہیں اور اس کے عیوب کو اس کے لیے بیان کرتے ہیں تاکہ عبرت ہو اور اس کے اعمال میں اصلاح ہو۔ایسے ہی چوری بھی ایک بری صفت ہے لیکن اگر اپنے دوستوں کی چیز بلا اجازت استعمال کر لی جاوے تو معیوب نہیں (بشرطیکہ دوست ہوں )۔