ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 351 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 351

اور ان تعلقات کا جو ایک سچے مومن اور عبداور اس کے رب میں ہوتے ہیں خارق عادت نشانات کے ذریعہ ظہور ہوتا ہے۔انبیاء علیہم السلام کے معجزات کا یہی راز ہے اور چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تعلقات اللہ تعالیٰ کے ساتھ کل انبیاء علیہم السلام سے بڑھے ہوئے تھے اس لیے آپ کے معجزات بھی سب سے بڑھے ہوئے ہیں۔۱ ۲۸ ؍مارچ ۱۹۰۳ء انسان اور بہائم میں فرق بچپن کی عمر پر ذکر ہوا فرمایا کہ انسان کی فطرت میں یہ بات ہے کہ وہ رفتہ رفتہ ترقی کرتا ہے۔بچوں میں عادت ہوتی ہے کہ جھوٹ بولتے ہیں۔آپس میں گالی گلوچ ہوتے ہیں۔ذرا ذراسی باتوں پرلڑتے جھگڑتے ہیں۔جوں جوں عمر میں وہ ترقی کرتے جاتے ہیں عقل اور فہم میں بھی ترقی ہوتی جاتی ہے۔رفتہ رفتہ انسان تزکیہ نفس کی طرف آتا ہے۔انسان کی بچپن کی حالت اس بات پر دلا لت کرتی ہے کہ گائے بیل وغیرہ جانوروں ہی کی طرح انسان بھی پیدا ہوتا ہے۔صرف انسان کی فطرت میں ایک نیک بات یہ ہوتی ہے کہ وہ بدی کو چھوڑ کرنیکی کو اختیار کرتا ہے اور یہ صفت انسان میں ہی ہوتی ہے۔کیونکہ بہائم میں تعلیم کا مادہ نہیں ہوتا۔سعدی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی ایک قصہ نظم میں لکھا ہے کہ ایک گدھے کو ایک بیوقوف تعلیم دیتا تھا اور اس پر شب وروز محنت کرتا۔ایک حکیم نے اسے کہا کہ اے بیوقوف تویہ کیا کرتا ہے؟ اور کیوں اپنا وقت اور مغز بے فائدہ گنواتا ہے؟ یعنی گدھا تو انسان نہ ہوگا تو بھی کہیں گدھا نہ بن جاوے۔درحقیقت انسان میں کوئی ایسی الگ شَے نہیں ہے جو کہ اور جانوروں میں نہ ہو۔عموماً سب صفات درجہ وار تمام مخلوق میں پائے جاتے ہیں لیکن فرق یہ ہے کہ انسان اپنے اخلاق میں ترقی کرتا ہے اور حیوان نہیں کرتا۔اور ان تعلقات کا جو ایک سچے مومن اور عبداور اس کے رب میں ہوتے ہیں خارق عادت نشانات کے ذریعہ ظہور ہوتا ہے۔انبیاء علیہم السلام کے معجزات کا یہی راز ہے اور چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تعلقات اللہ تعالیٰ کے ساتھ کل انبیاء علیہم السلام سے بڑھے ہوئے تھے اس لیے آپ کے معجزات بھی سب سے بڑھے ہوئے ہیں۔۱ ۲۸ ؍مارچ ۱۹۰۳ء انسان اور بہائم میں فرق بچپن کی عمر پر ذکر ہوا فرمایا کہ انسان کی فطرت میں یہ بات ہے کہ وہ رفتہ رفتہ ترقی کرتا ہے۔بچوں میں عادت ہوتی ہے کہ جھوٹ بولتے ہیں۔آپس میں گالی گلوچ ہوتے ہیں۔ذرا ذراسی باتوں پرلڑتے جھگڑتے ہیں۔جوں جوں عمر میں وہ ترقی کرتے جاتے ہیں عقل اور فہم میں بھی ترقی ہوتی جاتی ہے۔رفتہ رفتہ انسان تزکیہ نفس کی طرف آتا ہے۔انسان کی بچپن کی حالت اس بات پر دلا لت کرتی ہے کہ گائے بیل وغیرہ جانوروں ہی کی طرح انسان بھی پیدا ہوتا ہے۔صرف انسان کی فطرت میں ایک نیک بات یہ ہوتی ہے کہ وہ بدی کو چھوڑ کرنیکی کو اختیار کرتا ہے اور یہ صفت انسان میں ہی ہوتی ہے۔کیونکہ بہائم میں تعلیم کا مادہ نہیں ہوتا۔سعدی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی ایک قصہ نظم میں لکھا ہے کہ ایک گدھے کو ایک بیوقوف تعلیم دیتا تھا اور اس پر شب وروز محنت کرتا۔ایک حکیم نے اسے کہا کہ اے بیوقوف تویہ کیا کرتا ہے؟ اور کیوں اپنا وقت اور مغز بے فائدہ گنواتا ہے؟ یعنی گدھا تو انسان نہ ہوگا تو بھی کہیں گدھا نہ بن جاوے۔درحقیقت انسان میں کوئی ایسی الگ شَے نہیں ہے جو کہ اور جانوروں میں نہ ہو۔عموماً سب صفات درجہ وار تمام مخلوق میں پائے جاتے ہیں لیکن فرق یہ ہے کہ انسان اپنے اخلاق میں ترقی کرتا ہے اور حیوان نہیں کرتا۔