ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 353 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 353

کما ل دوستی کا ایک واقعہ دوشخصوں میں باہمی دوستی کما ل درجہ کی تھی اور ایک دوسرے کا محسن تھا۔اتفاقاً ایک شخص سفر میں گیا دوسرا اس کے بعد اس کے گھر میں آیا اور اس کی کنیزسے دریافت کیا کہ میرا دوست کہاں ہے؟ اس نے کہا کہ سفر کو گیا ہے پھر اس نے پوچھا کہ اس کے روپے والے صندوق کی چابی تیرے پاس ہے؟ کنیز نے کہاکہ میرے پاس ہے اس نے کنیز سے وہ صندوق منگواکرچا بی لی اور خود کھول کر کچھ روپیہ اس میں سے لے گیا جب کہ صاحب خانہ سفرسے واپس آیا تو کنیز نے کہا کہ آپ کا دوست گھر میں آیا تھا۔یہ سن کر صاحب خانہ کا رنگ زرد ہو گیا اور اس نے پوچھا کہ کیا کہتا تھا؟ کنیز نے کہاکہ اس نے مجھ سے صندوق اور چابی منگوا کرخود آپ کا روپیہ والا صندوق کھولا اور اس میں سے روپیہ نکال کرلے گیا۔پھر تو وہ صاحب خانہ اس کنیز پر اس قدر خوش ہواکہ بہت ہی پھولا اور صرف اس صلہ میں کہ اس نے اس کے دوست کا کہا مان لیا اس کو نا راض نہیں کیا۔اس کنیز کو اس نے آزاد کر دیا اور کہا کہ اس نیک کام کے اجر میں جو کہ تجھ سے ہوا ہے میں آج ہی تجھ کوآزادکرتا ہوں۔غرض جس قدر یہ جرائم ہیں جن کی نواہی کی شریعت میں تاکید ہے مثلاً گلہ نہ کرو، چوری نہ کرو وغیرہ وغیرہ یہ سب صفات بداستعمال کی وجہ سے خرا ب ہو گئے ہیں۔ورنہ حقیقتاً ان کا موقع اور محل پر استعما ل درست اور انسان کی فطرت کے مطابق ہے۔عفو ایک موقع پرتوقابل استعمال ہوتا ہے اور بعض موقع پرقابل ترک۔کیونکہ اگر کسی مجرم کو بار با ر عفوہی کردیا جاوے تو وہ اور زیادہ بے باک ہوکر جرم کرے گا۔ایسے موقع پر اس سے انتقام لینا ہی عفوہوتا ہے۔انجیل کی غیرمتوازن تعلیم انجیل کی تعلیم میں جو کہ بعض جگہ زیادہ نرمی کی ہدایت ہے اس کا بھی یہی مقصود ہوگا کیونکہ وہ تو صرف یہود کے لیے ہے (اس کی تمام تعلیم بالمقصود تھی) جوکہ سخت سرکش اور ظالم طبع لوگ تھے۔اس مسئلہ کو آج کل لوگوں نے خوب سمجھ لیا ہے برہمولوگوں نے بھی اس پر اعتراض کئے ہیں میں نے ایک برہموکی کتاب میں دیکھا وہ لکھتا ہے کہ تمام عمر مارہی کھاتے جانا اور ہمیشہ طمانچے کھانا بلکہ ایک گال زخمی کراکردوسری گال بھی