ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 320 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 320

کاموں سے بچو۔میں جماعت کے لیے دعا کرتا رہتا ہوں مگر جماعت کو چاہیے کہ وہ خود بھی اپنے آپ کو پاک کرے۔یا درکھو غفلت کا گناہ پشیمانی کے گناہ سے بڑھ کر ہوتا ہے۔یہ گناہ زہریلا اور قاتل ہوتا ہے۔توبہ کرنے والا تو ایسا ہی ہوتا ہے کہ گویا اس نے گناہ کیا ہی نہیں۔جس کو معلوم ہی نہیں کہ میں کیا کر رہا ہوں وہ بہت خطرناک حالت میں ہے پس ضرورت ہے کہ غفلت کو چھوڑو اور اپنے گناہوں سے توبہ کرو اور خدا تعالیٰ سے ڈرتے رہو۔جو شخص توبہ کرکے اپنی حالت کو درست کر لے گا وہ دوسروں کے مقابلہ میں بچا یا جاوے گا۔پس دعا اسی کوفائدہ پہنچا سکتی ہے جو خود بھی اپنی اصلا ح کرتا ہے اور خدا تعالیٰ کے ساتھ اپنے سچے تعلق کو قائم کرتا ہے۔پیغمبر کسی کے لیے اگر شفا عت کرے لیکن وہ شخص جس کی شفاعت کی گئی ہے اپنی اصلا ح نہ کرے اور غفلت کی زندگی سے نہ نکلے تو وہ شفا عت اس کو فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔۱ جب تک خود خدا تعالیٰ کی رحمت کے مقام پر کھڑا ہو تو دعا بھی اس کو فائدہ پہنچا تی ہے۔نرا اسباب پر بھروسا نہ کرلوکہ بیعت کر لی ہے اللہ تعالیٰ لفظی بیعتوں کو پسند نہیں کرتا۔بلکہ وہ یہ چاہتا ہے کہ جیسے بیعت کے وقت توبہ کرتے ہو اس توبہ پر قائم رہو اور ہر روز نئی توجہ پیدا کرو جو اس کے استحکام کاموجب ہو۔اللہ تعالیٰ پناہ ڈھونڈھنے والوں کوپناہ دیتا ہے جو لوگ خدا کی طرف سے آتے ہیں وہ ان کو ضائع نہیں کرتا۔اس بات کو خوب سمجھ لو کہ جب پورا خوف دامنگیر ہو اور جاں کندن کی سی حالت ہوگئی۔اس وقت کی توبہ، توبہ نہیں۔جب بَلا نازل ہوگئی پھر اس کا ردّ کرنا اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہے۔تم بَلا کے نزول سے پہلے فکر کرو۔جو بَلا کے نزول سے پہلے ڈرتا ہے وہ عاقبت بیں اورباریک بیں ہوتا ہے اور بَلا کے ۱ البدر میں اس کی مزید تشریح یو ں درج ہے۔’’دیکھو کہ نوح کا بیٹا ہلاک ہوا۔عیسیٰ علیہ السلام کے بھائی ہلاک ہوئے۔اُن کو ایمان نصیب نہ ہوا۔اسی طرح موسٰی کا چچا زاد بھائی تھا اس کو کچھ فائدہ موسیٰ کے رشتہ سے نہ ہوا۔دعا تو ہم کرتے ہیں مگر جب تک انسان خود سیدھا نہ ہو دعا شفا عتی فا ئدہ نہیں کرتی۔اگر انسان رحمت کے مقام سے خود ہی بھاگے تو رحمت اُسے کہاں کہاں تلاش کرے گی۔‘‘ (البدرجلد۲نمبر۱۱ مورخہ ۳ ؍ اپریل ۱۹۰۳ء صفحہ۸۱ )