ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 321 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 321

آجانے کے وقت تو کافر بھی ڈرتے ہیں۔میں نے سُنا ہے کہ بعض گائوں میں جہاں طاعون کی شدت ہوئی ہے ہندوئوں نے مسلمانوں کو بلا کر اپنے گھروں میں اذانیں دلوائی ہیں۔وہی اذان جس سے پہلے ان کو پرہیز تھا۔۱ جومومن غرض کے لیے خدا سے نہیں ڈرتا خدا اس سے خوف کو دور کر دیتا ہے مگر جس کے دروازہ پر بَلا نازل ہو جاوے تو وہ خواہ نخواہ اس سے ڈرے گا۔بہت دعائیں کرتے رہوتاکہ ان بَلائوں سے نجات ہو اور خاتمہ بالخیر ہو۔عملی نمونہ کے سوا بیہودہ قیل و قال فائدہ نہیں دیتی اور جیسے یہ ضروری ہے کہ ڈر کے سامانوں سے پہلے ڈرنا چاہیے یہ بھی نہیں ہونا چاہیے کہ ڈر کے سامان قریب ہوں تو ڈر جائو اور جب وہ دور چلے جاویں تو بے باک ہو جائو۔بلکہ تمہاری زندگی ہر حالت میں اللہ تعالیٰ کے خوف سے بھری ہوئی ہو خواہ مصیبت کے سامان ہوں یا نہ ہوں۔اللہ تعالیٰ مقتدرہے۲ وہ جب چاہتا ہے مصیبت کا دروازہ کھول دیتا ہے اور جب چاہتا ہے کشا ئش کرتا ہے جو اس پر بھی بھروسا کرتا ہے وہ بچایا جاتا ہے۔ڈرنے والا اور نہ ڈرنے والا کبھی برابر نہیں ہوسکتا۔اللہ تعالیٰ ان دونوں میں ایک فرق رکھ دیتا ہے۔پس ہماری جماعت کو چاہیے کہ وہ سچی توبہ کریں اور گناہ سے بچیں۔جو بیعت کرکے پھر گناہ سے نہیں بچتا وہ گویا جھوٹا اقرار کرتا ہے۔۳ اور یہ میرا ہاتھ نہیں خدا کا ہاتھ ہے جس پر وہ ایسا جھوٹ بولتا ہے اور پھر خدا کے ہاتھ پر جھوٹ بول کر کہاں جاوے؟ كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ البدر میں اس کی مزید تشریح ہے۔لکھا ہے۔’’جیسے آج کل سُنا گیا ہے کہ ہندو اور سکھ لوگ طاعون کے ڈر سے مسلمانوں کو بُلا بُلا کر اپنے گھروں میں بانگ دلواتے ہیں مگر اس سے کوئی فائدہ نہیں۔غرض کے وقت یہ لوگ نرم ہوجاتے ہیں جب غرض نکل گئی پھر ویسے ہی سخت قلب ہوگئے۔مومن کی یہ حالت نہ چاہیے بلکہ اُسے خد اسے صدق اور وفا سے دُعا کرنی چاہیے۔اگر طاعون نہ بھی ہو تو بھی وہ خدا سے ایسا ہی ڈرے گا جیسے ہزار طاعون ہو۔‘‘ (البدر جلد ۲ نمبر ۱۱ مورخہ ۳؍اپریل ۱۹۰۳ء صفحہ ۸۱) ۲ البدر سے۔’’ہر وقت اس سے ڈرنا چاہیے۔کیا اسے قہر بھیجتے کچھ دیر لگتی ہے؟ ‘‘ (البدر جلد ۲ نمبر ۱۱ مورخہ۳؍اپریل ۱۹۰۳ء صفحہ ۸۱،۸۲) ۳ البدر سے۔’’بیعت کی بنیادیہی ہے کہ سچی توبہ ہو اور گناہ چھوٹ جاویں اگر یہ نہ ہو تو بیعت خود گناہ ہوگی۔‘ ‘ (البدر جلد ۲ نمبر ۱۱ مورخہ۳؍اپریل ۱۹۰۳ء صفحہ ۸۲)