ملفوظات (جلد 4) — Page 319
۱۹ ؍مارچ ۱۹۰۳ء (مجلس قبل از عشاء) آپ نے شہ نشین پر جلوہ گر ہو کر فرمایا کہ ـ آج طبیعت نہایت علیل تھی کہ اٹھنے کی طاقت نہیں ہوئی۔اسی لیے ظہر و عصر کے اوقات میں نہ آسکا۔چند ایک دریدہ دہن آریوں کے بیبا کا نہ اعتراض پر فرمایا کہ یہ گندہ زبانی سے باز نہیں آتے ہم بھی ان کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔؎ گر نباشد بدوست راہ بردن شرط عشق است در طلب مُردن جب انسان کے دل میں میل ہوتا ہے تو ایک فرشتے کو بھی میلا سمجھ لیتا ہے۔ایک رئویا فرمایا کہ آج میں نے ایک خواب دیکھا جیسے آنکھ کے آگے ایک نظارہ گذر جاتا ہے۔دیکھتا ہوں کہ دو سنڈھوں کے سر جسم سے الگ کٹے ہوئے ہاتھوں میں ہیں۔ایک ایک ہاتھ میں اور دوسرا دوسرے ہاتھ میں۔اسلام کی حالت کا علاج دعا ہے جس حالت میں اب اسلام ہے اس کا علاج اب سوائے دعا کے اور کیا ہوسکتا ہے۔لوگ جہا د جہاد کہتے ہیں مگر اس وقت تو جہاد حرام ہے اس لیے خدا نے مجھے دعاؤں میں وہ جوش دیا ہے جیسے سمندر میں ایک جوش ہوتا ہے چونکہ توحید کے لیے دعا کا جوش دل میں ڈلا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ارادہ الٰہی بھی یہی ہے جیسا کہ اُدْعُوْنِيْٓ اَسْتَجِبْ لَكُمْ (المؤمن:۶۱) اس کا وعدہ ہے۔۱ ۲۰ ؍مارچ ۱۹۰۳ء بیعت کا مدّعا سچی توبہ ہے جمعہ کے دن چند آدمیوں نے بیعت کی اور بعد بیعت حضرت اقدس نے ان کو خطاب کرکے فرمایا۔اصل مدّعابیعت کا یہی ہے کہ توبہ کرو۔استغفارکرو۔نمازوں کو درست کرکے پڑھو۔ناجائز ۱ البدر جلد۲ نمبر۱۱ مو رخہ ۳ ؍اپریل ۱۹۰۳ء صفحہ ۸۱