ملفوظات (جلد 4) — Page 250
پھر جب یہ خدا کے واسطے اپنے اوپر موت وارد کرتا ہے خدا کبھی اسے دوسری موت نہیں دیتا۔میں نیک دل انسان کو دور سے پہچا ن لیتا ہوں آج کل دیکھا جاتا ہے کہ جب لَبْ کھولا جاتا ہے۔تو ان کی باتوں میں سے سوائے ہنسی ٹھٹھے اور دل دکھانے والے کلمات کے کچھ نکلتا ہی نہیں جو کچھ کسی برتن میں ہوتا ہے وہی باہر نکلتا ہے۔ان کی زبانیں ان کے اندرون پر گواہی دیتی ہیں۔میں تو نیک دل انسان کو دوری سے پہچان لیتا ہوں جو شخص پاک کردار سلیم دل لے کر آتا ہے میں تو اسی کے دیکھنے کا شوق رکھتا ہوں۔اس کی تو گالی بھی بُری معلوم نہیں ہوتی۔مگر افسوس کہ ایسے پاک دل بہت کم ہیں۔صبر اور حلم کا نمونہ ایک آریہ صاحب بو لے کہ ا صل میں حضور جاہل تو دو ہی قومیں ہیں۔آپ بُرا نہ مانیں تو میں عرض کر دوں۔اوّل تو سکھ لوگ دوسرے یہ ہمارے مسلمان بھائی۔اس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ دیکھئے ایک سمجھنے والے کے لیے جاہل سے زیادہ اور کیا گالی ہوسکتی ہے۔کسی شخص کو اس کے منہ پر جاہل کہنا بہت سخت گالی ہے مگر سوچو تو کیا ان حاضرین میں سے کوئی ایک بھی بولا ہے؟ کیا اب بھی تمہیں اس مجلس کی نرمی اور تہذیب پر کچھ شک ہے؟ بہت ہیں ہمارے منہ پر گالیاں دے جاتے مگر ان میں سے ایک کی بھی مجال نہیں ہوتی کہ دم ما ر کر اس کو کچھ بھی کہہ جاوے۔ہم ان کو دن رات صبر کی تعلیم دیتے ہیں۔نرمی اور حلم سکھا تے ہیں۔یہ وہ قوم نہیں کہ آپ کے اس اصول کے مصداق بن سکے۔ہاں ہم البتہ عوام مسلمان لوگوں کے ذمہ وار نہیں ہیں ہم تب مانیں اگر کسی آریہ لوگوں کے مجمع میں اس طرح کہہ دیں تم جاہل ہو اور وہ صبر کر رہیں اور ایک کی بجائے ہزارنہ سنائیں تو۔مسلمان کے اخلاق آپ نے مسلمانوں کو نہیں دیکھا اور نہ ہی آپ نے ان کے اخلاق دیکھے ہیں۔ان کا اور ان آریوں کا اگر مقابلہ کیا جاوے تو بکری اور