ملفوظات (جلد 4) — Page 249
آہستگی اور نرمی سے دور کرنے کی کوشش کرو کسی کو پتھر کی طرح اعتراض کا تحفہ نہ دو۔ہم دیکھتے ہیں کہ آج ایک کپڑا بازار سے لے کر سلایا جاتا اور پہنا جاتا ہے چند روز کے بعد وہ پرانا ہو جاتا اور اس میں تغیر آکر کچھ اَور کا اَور ہی ہو جاتا ہے۔سچے مذہب کی علا ما ت اسی طرح پر انے مذہب میں بھی صداقت کی جڑ ضرور ہے۔خدا راستی کے ساتھ ہوتا ہے اور سچا مذہب اپنے اندر زندہ نشان رکھتا ہے کیونکہ درخت اپنے پھلوں سے شناخت ہوتا ہے۔گورنمنٹ جو اس وراء الو راء ہستی کا ایک نہایت کمزور سا ظِل ہے اس میں ہم دیکھتے ہیں کہ ان کی نظر میں صادق کیسے عزیز اور معتبر ہوتے ہیں وہ افسر یا ملازم جن کو گورنمنٹ نے خود کسی جگہ کا حاکم مقرر فرمایا ہوتا ہے وہ کس دلیری سے کام کرتا ہے اور ذرا بھی پو شید گی پسندنہیں کرتا۔مگر وہ ایک مصنو عی ڈپٹی کمشنر یا تھا نہ دار وغیرہ جو جعلی طور پر کسی جگہ خود بخود حاکم بن کر لوگوں کو دھوکا دیتے ہیں کیا وہ گورنمنٹ کے سامنے ہوسکتے ہیں؟ جب گورنمنٹ کو یہ پتا لگے گا اس کو ذلیل کرے گی اور وہ ہتھکڑی لگ کر جیل خانہ میں یا اور سزا ملے گی۔یہی حال ہے مذہبی راستی کا۔جو خدا کی نظر میں صادق ہوتا ہے اس میں خدا کے نشان اور جرأت اور صداقت کے آثار ہوتے ہیں وہ ہر وقت زندہ ہوتا ہے اوراس کی عزّت ہوتی ہے۔متّقی کا مقام اصل میں خدا سے ڈرنے والے کو تو بڑے بڑے مشکلات ہوتے ہیں۔انسان پاک صاف تو جب جا کر ہوتا ہے کہ اپنے ارادوں کو اور اپنی باتوں کو بالکل ترک کرکے خدا کے ارادوں کو اسی کی رضا کے حصول کے واسطے فنا فی اللہ ہو جاوے۔خودی اور تکبر اور نخوت سب اس کے اندر سے نکل جاوے۔اس کی آنکھ ادھر دیکھے جد ھر خدا کا حکم ہو۔اس کے کان ادھر لگیں جدھر اس کے آقا کا فرمان ہو۔اس کی زبان حق وحکمت کے بیان کرنے کو کھلے۔اس کے بغیر نہ چلے جب تک اس کے لیے خدا کا اذن نہ ہو اس کا کھانا، پہننا، سونا، پینا، مباشرت وغیرہ کرنا سب اس واسطے ہو کہ خدا نے حکم دیا ہے اس واسطے نہ کھائے کہ بھوک لگی ہے بلکہ اس لیے کہ خدا کہتا ہے۔غرض جب تک مَرنے سے پہلے مَر کر نہ دکھاوے تب تک اس درجہ تک نہیں پہنچتا کہ متّقی ہو۔