ملفوظات (جلد 4) — Page 251
بھیڑیئے کا معاملہ نظر آوے۔عوام جو ہمارے زیر اثر نہیں ہیں ان کا ہم ذمہ نہیں لیتے۔گالی اور جوش دلانے والے الفاظ سن کر صبر کرنا مَردوں کا کام ہوتا ہے۔اگر کوئی ایسا کرکے دکھا دے تو ہم جانیں۔نرمی ہی مشکل ہے سختی تو ہر ایک شخص کرسکتا ہے۔خدا تعالیٰ عمر کو کم وبیش کرسکتا ہے کسی صاحب نے بیان کیا کہ آریوں نے لیکچر میں کہا کہ خدا عمر کو کم وبیش نہیں کرسکتا ہے۔فرمایا۔ہماراتو اعتقادہے کہ وہ ہر چیزپر قا درہے۔وہ عمر کو کم بھی کرسکتا ہے اور زیادہ بھی کرسکتا ہے يَمْحُوا اللّٰهُ مَا يَشَآءُ وَ يُثْبِتُ( الرّعد:۴۰ ) اگر ایسا نہیں ہوتا وہ کیوں مَرتے ہوئے انسان سے صدقات کر اتے ہیں اور کیوں علاج معا لجہ کراتے ہیں؟ بلکہ عیسائیوں کا بھی یہی اعتقاد ہے ان کی کتابوں میں لکھا ہے کہ ایک شخص کی پندرہ دن کی عمر باقی رہ گئی تھی دعا سے پندرہ سال ہو گئے۔اصل بات یہ ہے کہ یہ قوم نبوت کی را ہ سے بالکل محروم ہونے کی وجہ سے اس راہ اور علم سے جاہل مطلق ہے اسی وجہ سے ایسے ایسے اعتراض کرتے ہیں۔روحانیت سے بے بہر ہ ہونے کی وجہ سے ہے ورنہ ایسے اعتراض ہرگز نہ کرتے۔مادر زاداندھے کو آنکھیں کیوں کر دیں۔۱ یکم مارچ ۱۹۰۳ء (صبح کی سیر ) حضر ت نواب محمد علی خان صاحب کے متعلق ایک الہام نواب صاحب کو مخاطب کرکے فرمایا کہ آج رات ایک کشف میں آپ کی تصو یر ہمارے سامنے آئی اور اتنا لفظ الہام ہوا حجۃ اللہ، یہ اَمر کوئی ذاتی معاملات سے تعلق نہیںرکھتا۔اس کے متعلق یوں تفہیم ہوئی کہ چونکہ آپ اپنی برادر ی اور قوم میں سے اور سو سائٹی میں سے الگ ہو کر آئے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے آپ کا نام حجۃ اللہ رکھا یعنی آپ ان پر حجت ہوں گے۔قیامت کے دن کو ان کو کہا جاوے گا کہ فلاں شخص نے تم سے نکل کر اس صداقت کو پرکھا اور مانا۔۱ الحکم جلد ۷ نمبر ۹ مورخہ ۱۰ ؍ ما رچ ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۰،۱۱