ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 248 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 248

ہے بعض اوقات سال ہی گذرجاتے ہیں جب دنیا کے مقدمات کا یہ حال ہے تو دین کے مقدمات کا کیوں کر دو چار یا دس باراں منٹ میں فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔سائل کو سوال کرنا تو آسان ہے مگر جواب دینے والے کو جو مشکلات ہوتی ہیں ان کا اندازہ کرنا مشکل ہے۔ایک شخص اعتراض کر دیوے کہ نظامِ شمسی کے متعلق اور ستاروں اور زمین کے متعلق حالات مجھے بتا دو اور جتنے وقت میں مَیں نے سوال کیا ہے اتنا ہی تمہیں وقت دیا جاتا ہے کہ اتنے وقت کے اندر اندر جواب دو۔ورنہ تم جھوٹے ہو۔اب صاف عیاں ہے کہ جواب دینے والا کیا کرے۔وہ جب تک کئی جز کی کتاب نہ لکھے تب تک جواب پورا نہ ہونا ہوا۔غرض اس طرح کی مشکلات ہیں جو ہمیں درپیش ہیں۔یہ وجو ہ ہیں جو ہمیں ان جلسوں میں جانے سے روکتے ہیں۔تلا شِ حق کے آدا ب اگر سائل ایسا کرے کہ لو صاحب میں نے سوال کیا ہے تم جب تک اس کا جواب کامل کرو میں خاموش ہوں تو جواب دینے والے کو بھی مزہ آوے۔اصل میں جو باتیں خدا کے لیے ہوں اور جو دل خدا کی رضا کے واسطے ایسا کرتا ہے اور اس کا دل سچے تقویٰ سے پُر ہے وہ تو کبھی ایسا کرتا نہیں۔مگر آج کل زبان چُھری کی طرح چلتی ہے اور صرف ایک حجت بازی سے کام کیا جاتا ہے خدا کے لیے ایسا ہوگا تو وہ باتیں اور وہ طرز ہی اور ہوتا ہے جو دل سے نکلتاہے وہ دل ہی پر جا کر بیٹھتا ہے۔حق جُو کے سوال کی بھی ہم کو خوشبو آ جاتی ہے۔حق جُو ہو تو اس کی سختی میں بھی ایک لذّت ہوتی ہے۔اس کا حق ہوتا ہے کہ جو اَمر اس کی سمجھ میں نہیں آیا اس کے متعلق اپنی تسلّی کرائے اور جب تک اس کی تسلّی نہ ہو وے اور پورے دلائل نہ مل جاویں تب تک بے شک وہ پوچھے ہمیں بُرا نہیں لگتا۔بلکہ ایسا شخص تو قابلِ عزّت ہوتا ہے جو باتیں خدا کے لیے ہوتی ہیں وہ کہاں اور نفسانی ڈھکو نسلے کہاں؟ اعتراض کرنے میں جلدی نہ کرو میں نے اپنی جماعت کو بھی بارہا سمجھایا کہ کسی پر اعتراض کرنے میں جلدی نہ کرو۔ہر پرانا مذہب اصل میں خدا ہی کی طرف سے تھا مگر زمانہ دراز گذرنے کی وجہ سے اس میں غلطیاں پڑگئی ہیں۔ان کو