ملفوظات (جلد 4) — Page 247
آپ جانتے ہیں کہ ایسے مجمعوں میں مختلف قسم کے لوگ آتے ہیں۔کوئی تو محض جاہل اور دھڑے بندی کے خیال پر آتے ہیں کوئی اس واسطے کہ تا کسی کے بزرگوں کو گالی گلو چ دے کر دل کی ہوس پوری کرلیں اور بعض سخت تیز طبیعت کے لوگ ہوتے ہیں۔سو جہاں اس قسم کا مجمع ہوا یسی جگہ جاکر مذہبی مباحثات کرنا بڑا نازک معاملہ ہے۔کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ جب دو شخص مقابل میں کھڑے ہوتے ہیں جب تک وہ یہ ثابت کرکے نہ دکھادیں کہ دوسرا مذہب بالکل غلطی پر ہے اور اس میں صداقت اور روحانیت کا حصہ نہیں وہ مُردہ ہے اور خدا سے اسے تعلق نہیں ہے تب تک اس کو اپنے مذہب کی خوبصورتی دکھانی مشکل ہوتی ہے کیونکہ یہ دوسرے کے معائب کا ذکر کرناہی پڑے گا۔جو غلطیاںہیں اس میں اگر ان کا ذکر نہ کیا جاوے تو پھر اظہارِ حق ہی نہیں ہوتاتو ایسی باتوں سے بعض لوگ بھڑک اٹھتے ہیں۔وہ نہیں برداشت کرسکتے۔طیش میں آکر جنگ کرنے کو آمادہ ہوتے ہیں لہٰذا ایسے موقع پر جانا مصلحت کے خلاف ہے اور مذہبی تحقیقات کے واسطے ضروری ہے کہ لوگ ٹھنڈے دل اور انصاف پسند طبیعت لے کر ایک مجلس میں جمع ہوں۔ایسا ہو کہ ان میں کسی قسم کے جنگ و جدال کے خیالات جوش زن نہ ہوں تو بہتر ہو۔پھر ایسی حالت میں ایک طرف سے ایک شخص اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کرے اور جہاں تک وہ بول سکتا ہے بولے پھر دوسری طرف سے جانب مقابل بھی اسی طرح نرمی اور تہذیب سے اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کرے اسی طرح بار بار ہوتا رہے مگر افسوس کہ ابھی تک ہمارے ملک میں اس قسم کے متحمل لوگ اور صبر اور نرم دِلی سے تحقیق کرنے والے نہیں ہیں ابھی ایسا وقت نہیں آیا ہاں امید ہے کہ خدا جلدی ایسا وقت لے آوے گا ہم نے تو ایسا ارادہ بھی کیا ہے کہ یہاں ایک ایسا مکان تیار کرایا جاوے جس میں ہر مذہب کے لوگ آزادی سے اپنی اپنی تقریریں کرسکیں۔درحقیقت اگر کسی اَمر کو ٹھنڈے دل اور انصاف کی نظر اور بردباری سے نہ سناجاوے تو اس کی سچی حقیقت اور تہ تک پہنچنے کے واسطے ہزاروں مشکلات ہوتے ہیں۔دیکھئے ایک معمولی چھوٹاسا مقدمہ ہوتا ہے تو اس میں جج کس طرح طرفین کے دلائل، ان کے عذر وغیرہ کس ٹھنڈے دل سے سنتا ہے اور پھر کس طرح سوچ بچار کر پوری تحقیقات کے بعد فیصلہ کرتا