ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 229 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 229

دیتا اور اندر ایک روشنی پیدا کرتا ہے۔یہ طریق استجابت دعا کا رکھا ہے۔ضرور ہے کہ انسان پہلے حالتِ بیماری کو محسوس کرے اور پھر طبیب کو شناخت کرے سعید وہی ہے جو اپنے مرض اور طبیب کو شناخت کرتا ہے۔اس وقت دنیا کی حالت بگڑی ہوئی ہے۔جن باتوں پر خدا نے چاہا تھا کہ قائم ہوں ان کو چھوڑا گیا ہے۔باہر سے وہ ایک پھوڑے کی طرح نظر آتے ہیں جو چمکتا ہے مگر اس کے اندر پیپ ہے یا قبر کی طرح ہیں کہ جس کے اندر بجز ہڈیوں کے کچھ نہیں۔ایسا ہی حال اخلاقی حالتوں کا ہے غیظ و غضب میں آکر گندی گالیاں دینے لگتا ہے اور اعتدال سے گذر جاتا ہے۔نفس مطمئنّہ کی حالت والا ہی بڑ ا سعید اور با مراد ہے اصل مد عا تو یہ ہونا چاہیے کہ انسان نفس مطمئنّہ حاصل کرے۔نفس تین قسم کے ہیں۔امّارہ۔لوّامہ۔مطمئنّہ۔بہت بڑا حصہ دنیا کا نفسِ امّارہ کے نیچے ہے۔اور بعض جن پر خدا کا فضل ہوا ہے وہ لوّامہ کے نیچے ہیں یہ لوگ بھی سعادت سے حصہ رکھتے ہیں۔بڑا بدبخت وہ ہے جو بدی کو محسوس ہی نہیں کرتا یعنی جو امّارہ کے ماتحت ہیں۔اور بڑاہی سعید اور بامراد وہ ہے جو نفسِ مطمئنّہ کی حالت میں ہے۔نفس مطمئنّہ کو ہی خدا نے فرمایا يٰۤاَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَىِٕنَّةُ ارْجِعِيْۤ اِلٰى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً (الفجر:۲۷تا۲۹) یعنی اے وہ نفس جو اطمینان یافتہ ہے۔اس حالت میں شیطان کے ساتھ جو جنگ ہوتی ہے اس کا خاتمہ ہو جاتا ہے اور خطاب کے لائق تو مطمئنّہ ہی ٹھہرایا ہے۔اور اس آیت سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ مطمئنّہ کی حالت میں مکالمہ الٰہی کے لائق ہو جاتا ہے۔خدا کی طرف واپس آ، کے معنی یہی نہیں کہ مَر جا بلکہ لوّامہ اور امّارہ کی حالت میں جو خدا تعالیٰ سے ایک بُعد ہوتا ہے مطمئنّہ کی حالت میں وہ مہجوری نہیں رہتی اور کوئی غبا ر باقی نہ رہ کر غیب کی آواز اس کو بلاتی ہے۔تو مجھ سے راضی اور میں تجھ سے راضی، یہ رضا کا انتہائی مقام ہوتا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اب میرے بندوں میں داخل