ملفوظات (جلد 4) — Page 230
ہو جا۔اللہ تعالیٰ کے بند ے دنیا ہی پر ہوتے ہیں مگر دنیا ان کو نہیں پہچانتی۔دنیا نے آسمانی بندوں سے دوستی نہیں کی وہ ان سے ہنسی کرتی ہے۔وہ الگ ہی ہوتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی رِدا کے نیچے ہوتے ہیں۔غرض جب ایسی حالت اطمینان میں پہنچتا ہے تو الٰہی اکسیر سےتانباسونا ہو جاتا ہے۔وَ ادْخُلِيْ جَنَّتِيْ اور تو میری بہشت میں داخل ہوجا۔بہشت ایک ہی چیز نہیں بلکہ فرمایا وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ(الرحمٰن:۴۷) خد اسے ڈر نے والے کے لیے دو بہشت ہیں۔۱ (قبل ازظہر) ایک صاحب گو ڑ گانوہ سے تشریف لائے ہوئے تھے۔حضرت سے شرف بیعت حاصل کیا۔بعد از بیعت حضرت اقدس نے ان کو مخاطب کرکے فرمایا کہ مسنو ن طور سے خدا کا فضل تلاش کرو ہماری طرف سے تو آپ کو یہی نصیحت ہے کہ مسنون طور سے اللہ تعالیٰ کے فضل کو تلاش کرو۔اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کرکے یہ اَمر صاف طور پر بیان کر دیا ہے کہ ان کی پیروی کے سوا کوئی راہ اس کی رضا جوئی کی باقی نہیں ہے۔جو خدا کے فضل کا جویاں ہو اسی دروازہ کو کھٹکھٹائے۔اس کے لیے کھولا جائے گا۔بجزاس دروازہ کے تمام دروازے بند ہیں۔نبوت ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہو چکی۔شریعت قرآن شریف کے بعد ہرگز نہیں آئے گی۔انسان کو کشوف اور وحی اور الہام کا بھی طا لب نہ ہونا چاہیے بلکہ یہ سب تقویٰ کا نتیجہ ہیں۔جب جڑ ٹھیک ہو گی تو اس کے لو ازم بھی خود بخود آجا ئیں گے۔دیکھو! جب سورج نکلتا ہے تو دھوپ اور گر می جو اس کا خاصّہ ہیں خود بخود ہی آجاتے ہیں۔اسی طرح جب انسان میں تقویٰ آ جاتا ہے تو اس کے لوازم بھی اس میں ضرور آجاتے ہیں۔دیکھو! جب کوئی دوست کسی کے ملنے کے واسطے جاوے تو اس کو یہ امید تو نہ رکھنا چاہیے کہ میں اس کے پاس جاتا ہوں کہ وہ مجھے پلاؤ، زردے اور قورمے اور قلچے کھلائے گا اور میری خاطر تواضع کرے گا۔نہیں بلکہ صادق دوست کی ملاقات کی خواہش ہوتی ہے ۱ الحکم جلد۷ نمبر ۸ مو ر خہ ۲۸ ؍فروری ۱۹۰۳ءصفحہ۳ تا ۶