ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 228 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 228

پیدا نہیں کرتا تو پھر اپنی پیدائش کو عبث سمجھتا ہے اور اگرا س مجلس میں وہ ایمان نہیں ہے تو اس پر حرام ہے کہ دوسری مجلس کو تلاش نہ کرے۔خدا نے مجھے اسی لیے مامور کیا ہے کہ تقویٰ پیدا ہو اور خدا پر سچا ایمان جو گناہ سے بچاتا ہے پیدا ہو۔خدا تعالیٰ تاوان نہیں چاہتا بلکہ سچا تقویٰ چاہتا ہے۔میں نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ توبہ کرتے وقت گواہ رکھ لیتا تھا۔میں نے اس سے پوچھا کہ تو ایسا کیوں کرتا ہے؟ اس نے کہا۔میں نے اس لیے یہ کیا ہے کہ شاید اس توبہ کو توڑتے وقت اس گواہ سے ہی کچھ شرم آجائے لیکن آخر دیکھا کہ وہ ان کی بھی پروا نہ کر کے توبہ توڑتا کیونکہ اصل شرم تو خدا تعالیٰ سے ہونی چاہیے۔جب خدا سے نہیں ڈرتا اور شرم کرتا تو اور کسی سے کیا کرے گا۔ایسے لوگوں کی وہی مثال ہے۔؎ چہ خوش گفت درویش کوتاہ دست کہ شب توبہ کرد و سحر گاہ شکست مامور کی دعاؤں کا اثر جو لوگ اس سلسلہ میں داخل ہوتے ہیں ان کو سب سے بڑا فائدہ تو یہ ہوتا ہے کہ میں ان کے لیے دعا کرتا ہوں۔دعا ایسی چیز ہے کہ خشک لکڑی کو بھی سر سبز کر سکتی ہے اور مُردہ کو زندہ کر سکتی ہے۔اس میں بڑی تاثیریں ہیں جہاں تک قضاء و قدر کے سلسلہ کو اللہ تعالیٰ نے رکھا ہے کوئی کیسا ہی معصیت میں غرق ہو دعا اس کو بچا لے گی۔اللہ تعالیٰ اس کی دستگیری کرے گا اور وہ خود محسوس کر لے گا کہ میں اب اَور ہوں۔دیکھو! جو شخص مسموم ہے کیا وہ اپنا علاج آپ کر سکتا ہے اس کا علاج تو دوسرا ہی کرے گا۔اس لیے اللہ تعالیٰ نے تطہیر کے لیے یہ سلسلہ قائم کیا ہے اور مامور کی دعائیں تطہیر کا بہت بڑا ذریعہ ہوتی ہیں۔اسم اعظم دعا کرنا اور کرانا اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔دعا کے لیے جب درد سے دل بھر جاتا ہے اور سارے حجابوں کو توڑ دیتا ہے اس وقت سمجھنا چاہیے کہ دعا قبول ہوگئی یہ اسم اعظم ہے۔اس کے سامنے کوئی اَن ہونی چیز نہیں ہے۔ایک خبیث کے لیے جب دعا کے ایسے اسباب میسر آجائیں تو یقیناً وہ صالح ہوجاوے اور بغیر دعا کے وہ اپنی توبہ پر بھی قائم نہیں رہ سکتا۔بیمار اور محجوب اپنی دستگیری آپ نہیں کر سکتا۔سنّت اللہ کے موافق یہی ہوتا ہے کہ جب دعائیں انتہا تک پہنچتی ہیں تو ایک شعلہ نور کا اس کے دل پر گرتا ہے جو اس کی ساری خباثتوں کو جلا کر تاریکی دور کر