ملفوظات (جلد 4) — Page 212
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۱۲ جلد چهارم بھی غلط ہے اور حدیث سے بھی پایا جاتا ہے کہ آنے والا موعود يَضَعُ الْحَرْبَ کر کے دیکھائے گا یعنی لڑائیوں کو موقوف کرے گا۔ دیکھو! ہر چیز کے عنوان پہلے ہی سے نظر آجاتے ہیں ۔ جیسے پھل سے پہلے شگوفہ نکل آتا ہے اگر اللہ تعالیٰ کا یہی منشا ہوتا کہ مہدی آکر جہاد کرتا اور تلوار کے زور سے اسلام کی حمایت کرتا تو چاہیے تھا کہ مسلمان فنون حربیہ اور سپہ گری میں تمام قوموں سے ممتاز ہوتے اور فوجی طاقت بڑھی ہوئی ہوتی مگر اس وقت یہ طاقت تو اسی قوم کی بڑھی ہوئی ہے اور فنونِ حرب کے متعلق جس قدر ایجادات ہو رہی ہیں وہ یورپ میں ہو رہی ہیں نہ کسی اسلامی سلطنت میں ۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا یہ منشا ہر گز نہیں ہے اور يَضَعُ الْحَرْبَ کی پیشگوئی کو پوری کرنے کے واسطے یہی ہونا بھی چاہیے تھا دیکھو! مہدی سوڈانی وغیرہ نے جب مخالفت میں ہتھیار اٹھائے تو خدا تعالیٰ نے کیسا ذلیل کیا یہاں تک کہ اس کی قبر بھی کھدوائی گئی اور ذلت ہوئی اس لیے کہ خدا کے منشا کے خلاف تھا۔ مہدی موعود کا یہ کام ہی نہیں ہے بلکہ وہ تو اسلام کو اس کی اخلاقی اور علمی و عملی اعجازات سے دلوں میں داخل کرے گا اور اس اعتراض کو دور کرے گا جو کہتے ہیں کہ اسلام تلوار کے ذریعہ پھیلا یا گیا وہ ثابت کر دکھائے گا کہ اسلام ہمیشہ اپنی عملی سچائیوں اور برکات کے ذریعہ پھیلا ہے۔ ان تمام باتوں سے انسان سمجھ سکتا ہے کہ اگر خدا تعالیٰ کا منشا تلوار سے کام لینا ہوتا تو فنون حرب اسلام والوں کے ہاتھ میں ہوتے اسلامی سلطنتوں کی جنگی طاقتیں سب سے بڑھ کر ہوتیں اگر چہ حقیقی خبر تو خدا تعالیٰ سے وحی پانے والوں کو ملتی ہے مگر مومن کو بھی ایک فراست ملتی ہے اور وہ علامات و آثار سے سمجھ لیتا ہے کہ کیا ہونا چاہیے جب عیسائی قوموں کے مقابل آتے ہیں تو زک اُٹھاتے ہیں اور ذلت کا منہ دیکھتے ہیں کیا اس سے پتا نہیں لگتا کہ خدا کا منشا تلوار اٹھانے کا نہیں ہے یہ اعتراض صحیح نہیں غلط ہے۔ مسیح موعود کا یہی کام ہے کہ وہ لڑائیوں کو بند کر دے کیونکہ يَضَعُ الْحَرْبَ اس کی شان میں آیا ہے کیا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کو باطل کر دے گا ؟ معاذ اللہ ۔ قرآن شریف سے بھی ایسا ہی پایا جاتا ہے کہ اس وقت لڑائی نہیں ہونی چاہیے۔ کیا یہ ہو سکتا ہے کہ جب دل اعتراضوں سے بھرے