ملفوظات (جلد 4) — Page 213
ہوئے ہوں تو ان کو قتل کردیا جاوے یا تلوار دکھا کر مسلمان کیا جاوے وہ اسلام ہوگا یا کفر جو ان کے دل میں اس وقت پیدا ہوگا؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جنگیں محض دفاعی تھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی مذہب کے لیے تلوار نہیں اُٹھائی بلکہ اتمامِ حجت کے بعد جس طرح پر خدا نے چاہا منکروں کو عذاب دیا۔وہ جنگیں دفاعی تھیں۔تیرہ برس تک آ پ ستائے جاتے رہے اور صحابہ ؓنے جانیں دیں۔انہوں۱ نے نشان پر نشان دیکھے اور انکار کرتے رہے آ خرخدا تعالیٰ نے ان کو جنگوں کی صورت میں عذاب سے ہلاک کیا۔اس زمانہ میں طاعون ہے۔جوں جوں تعصب بڑھے گا طاعون بڑھے گا۔قرآن شریف میں اس کی بابت خبردی گئی ہےوَ اِنْ مِّنْ قَرْيَةٍ اِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوْهَا قَبْلَ يَوْمِ الْقِيٰمَةِ اَوْ مُعَذِّبُوْهَا۔(بنیٓ اسـرآءیل:۵۹) پس اگر میں خدا کی طرف سے ہوں اور وہ بہتر جانتا ہے کہ میں اسی کی طرف سے ہوں تو اس کے وعدے پورے ہو کر رہیں گے جو بشارت کی پیشگوئیوں کو نہیں مانتے تو اس طاعون کی پیشگوئی کو دیکھ لیں۔سعادت سے انہیں کو حصہ ملتا ہے جو دور سے بَلا کو دیکھتا ہے۔خدا تعالیٰ پر تَقَوُّل کرنے والا ہلاک ہو جاتا ہے صادق کے لیے خدا تعالیٰ نے ایک اور نشان بھی قرار دیا ہے اور وہ یہ ہے کہ آنحضر ت صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمایا اگر تو مجھ پر تَقَوُّل کرے تو میں تیر ا داہنا ہاتھ پکڑ لوں۔اللہ تعالیٰ پر تَقَوُّل کرنے والامفتری فلاح نہیں پا سکتا بلکہ ہلاک ہو جاتا ہے اور اب پچیس سال کے قریب عرصہ گذرا ہے کہ خدا تعالیٰ کی وحی کو میں شائع کر رہا ہوں۔اگر افترا تھاتو اس تَقَوُّل کی پاداش میں ضروری نہ تھا کہ خدا اپنے وعدہ کو پورا کرتا بجائے اس کے کہ وہ مجھے پکڑتا اس نے صدہا نشان میری تائید میں ظاہر کیے اور نصرت پر نصرت مجھے دی۔کیا مفتریوں کے ساتھ یہی سلوک ہوا کرتا ہے؟ اور دجالوں کو ایسی ہی نصرت ملا کرتی ہے؟ کچھ تو سوچو۔ایسی نظیر کوئی پیش کرو اور میں ۱یعنی منکروں