ملفوظات (جلد 4) — Page 202
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۰۲ جلد چهارم ہیں ۔ یہ بھی ہم ان کا احسان سمجھتے ہیں کہ نرمی سے باتیں کریں ۔ اے پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ زیارت کرنے والے کا تیرے پر حق ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر مہمان کو ذرا سا بھی رنج ہو تو وہ معصیت میں داخل ہے۔ اس لیے میں چاہتا ہوں کہ آپ ٹھہریں۔ چونکہ کلمہ کا اشتراک ہے جب تک یہ نہ سمجھیں جو کہیں ان کا حق ہے۔ کے ۱۴ فروری ۱۹۰۳ء (صبح کی سیر ) چونکہ نو وارد صاحب کو پوری طرح تبلیغ کرنا حضرت حجتہ اللہ کا منشا تھا لہذا سیر میں بھی اس کو خطاب کر کے آپ نے سلسلہ تقریر شروع فرمایا (ایڈیٹر ) سے میں نے بہت غور کیا ہے کہ جب کوئی مامور مامور کے آنے پر دو گروہ ہو جاتے ہیں آتا ہے تو دو گروہ خود بخود ہو جاتے ہیں ل البدر میں ہے۔ فرمایا ۔ اگر کوئی مہمان آوے اور سب وشتم تک بھی اس کی نوبت پہنچے تو تم کو چاہیے کہ چپ کر رہو جس حال میں کہ وہ ہمارے حالات سے واقف نہیں ہے نہ ہمارے مُریدوں میں وہ داخل ہے تو کیا حق ہے کہ ہم اس سے وہ ادب چاہیں جو ایک مرید کو کرنا چاہیے۔ یہ بھی ان کا احسان ہے کہ نرمی سے بات کرتے ہیں۔ خدا کرے کہ ہماری جماعت پر وہ دن آوے کہ جو لوگ محض نا واقف ہیں اگر وہ آئیں تو بھائیوں کی طرح سلوک کریں۔ بھلا ان لوگوں کو کیا پڑی ہے کہ تکلیف اُٹھا کر کچی سڑک پر دھکے کھاتے آتے ہیں۔ پیغمبر خدا فرماتے ہیں کہ زیارت کرنے والے کا حق ہے کہ جو چاہے کہے۔ ہمارے لیے تلخی کرنا معصیت ہے ان کو اسی لیے ٹھہراتا ہوں کہ یہ غلطی رفع ہو۔ بھائیوں کی طرح سلوک کیا کرو اور پیش آیا کرو۔“ البدر جلد ۲ نمبرے مورخہ ۶ / مارچ ۱۹۰۳ ء صفحه ۵۱) الحکم جلدے نمبرے مورخه ۲۱ فروری ۱۹۰۳ء صفحه ۳ تا ۵ البدر میں سلسلہ تقریر شروع کرنے سے پہلے مندرجہ ذیل مکالمہ کا ذکر ہے۔ حضرت اقدس تشریف لائے تو آتے ہی آپ نے محمد یوسف صاحب نو وارد مہمان سے دریافت فرمایا کہ کیا آپ نے توقف کا ارادہ کر لیا ہے؟ محمد یوسف صاحب ۔ آج تو ضرور ہی ٹھہروں گا۔ حضرت اقدس۔ ہم آپ کو کتا بیں دے دیں گے خود بھی دیکھنا اوروں کو بھی دکھانا۔ (البدر جلد ۲ نمبر ۷ مورخہ ۶ مارچ ۱۹۰۳ صفحه ۵۱)