ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 13 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 13

خدا تعالیٰ کی صفات اَبدی ہیں خدا کبھی معطّل نہیں ہوگا ہمیشہ خالق، ہمیشہ رازق، ہمیشہ ربّ، ہمیشہ رحمان، ہمیشہ رحیم ہے اور رہے گا میرے نزدیک ایسے عظیم الشان جبروت والے کی نسبت بحث کرنا گناہ میں داخل ہے خدا نے کوئی چیز منوانی نہیں چاہی جس کا نمونہ یہاں نہیں دیا۔ہم لڑکپن میں ایسا کرتے تھے اور دیکھتے تھے کہ گلہری کو جب مار دیا جاوے تو وہ بے حس و حرکت ہو جاتی تھی مگر پھر اگر اس کے سر کو گوبر میں دیا جاوے تو وہ زندہ ہو جایا کرتی تھی اسی طرح مکھی۔پھر یہ موت حقیقی موت نہیں ہوتی نیند اور غشی بھی موت ہی ہے۔۱ قبر میں سوالات عرب صاحب نے سوال کیا کہ فرشتہ مَرنے کے بعد کس زبان میں سوال کرے گا؟ فرمایا۔ہمیں انگریزی، فارسی، عربی ،اردو وغیرہ زبانوں میں الہام ہوتے ہیں۔فرشتہ ہر زبان بول سکتا ہے۔سوال کیا۔کیا فرشتہ یہی سوال کرے گا مَنْ رَّبُّکَ وَمَنْ نَّبِیُّکَ۔اگر یہی سوال ہو گا تو اس کے جواب یاد کر لئے جاویں تو وہاں پاس ہوسکتے ہیں۔فرمایا۔نہیں۔یہ ایک ایمانی بات ہے یہی دو لفظ یاد کرکے دنیاوی امتحانوں کی طرح کبھی پاس نہیں ہوسکتا بلکہ انسان جس رنگ سے رنگین ہوگا وہی جواب اس کے منہ سے نکلے گا پھر لکھا ہے بِوَجْہٍ مِّنَ الْوُجُوْہِ قبر میں راحت یا رنج کا سامان مہیا کیا جاوے گا۔حشر اجساد پھر عرب صاحب کے سوال پر فرمایا کہ مَرنے کے بعد مُردے کا تعلق زمین سے ضرور رہتا ہے۔مومن کا تعلق ایک آسمان سے ہوتا ہے اور ایک زمین سے۔اصل حساب و کتاب تو برزخ میں ہو جاوے گا مگر مقابلہ ۱ الحکم میں یہ عبارت یوں ہے۔’’یہ موت حقیقی موت نہیں ہوتی غشی اور نیند کی سی حالت ہوتی ہے اور یہ بھی ایک قسم کی موت ہے یہ نمونہ ہے احیاءِ موتیٰ کا۔‘‘ (الحکم جلد۷ نمبر ۲ مورخہ ۱۷؍جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ۶ )