ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 14 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 14

کرانا باقی رہ جاوے گا وہ حشر کو ہوگا۔ہزاروں انبیاء، دجال، کذّاب، کفار، ملعون وغیرہ وغیرہ خطاب پاتے گئے۔قیامت میں اس لئے حشر ہوگا کہ ان کو عزّت کی کرسی پر بٹھا کر اور مکذّبوں کو ذلّت کا عذاب دے کر دکھلایا جاوے گا کہ دیکھوکون صادق اور کون کاذب تھا۔سوال کیا کہ حشر کو جسم ہوگا یا نہیں اور یہی جسم ہوگا یا کوئی اَور؟ فرمایا۔حشر میں جسم دیئے جاویں گے یہ نہیں کہ یہی ہوگا یا کوئی اَور۔یہ مانی ہوئی بات ہے کہ تین سال کے بعد پہلا جسم انسانی ضائع ہو جاتا اور اس کا قائم مقام نیا آجاتا ہے پھر ہمارا ایمان ہے کہ ان کو بدن ملے گا مگر جس طرح اس علیم کے علم میں ہے۔ہمارا اس پر ایمان ہے کہ وہ قادر ہے کہ اس بدن سے بھی کچھ حصہ اسے دے دے اور اس کے سوا اور جسم بھی عطا کرے سوائے ذاتِ باری کے کسی کی یہ صفت نہیں کہ ہمیشہ ابدی رہے اور یہ طاقت خدا ہی انسان کو دے گا کہ پھر وہ ابدی بن جاوے۔۱ پھر سوال کیا کیوں یہ مرتبہ صرف انسان کو ہی ملے گا اور حیوانات کو نہیں دیا جاوے گا؟ فرمایا۔اس پر ہم جھگڑ نہیں سکتے جیسے ایک شخص سخاوت کرتا ہے ایک فقیر کو وہ پیسہ دیتا ہے اور دوسرے کو روپیہ۔مگر جس کو وہ پیسہ ملا ہے وہ حق نہیںرکھتا کہ جھگڑا کرے۔بہشت والوں کو تو ابدی رہنا ہوگا اور حدیثوں میں بھی آیا ہے کہ دوزخی ہمیشہ اس میں نہیں رہیں گے۔جیسے فرمایا یَاْتِیْ عَلٰی جَھَنَّمَ زَمَانٌ لَیْسَ فِیْـھَا اَحَدٌکیونکہ وہ بھی آخر خدا کے ہاتھ سے بنے ہوئے ہیں ان پر کوئی زمانہ ایسا آنا چاہیے کہ ان کو عذاب کی تخفیف دی جاوے۔۱ الحکم میں یہ عبارت یوںہے۔فرمایا۔’’جسم تو ہوں گے مگر یہ نہیں لکھا کہ یہی یا اَور۔تین سال کے بعد پہلا جسم تو رہتا نہیں اس کا قائم مقام نیا جسم آجاتا ہے پس ہمارا یہ ایمان ہے کہ ایک جسم دیا جاوے گا جیسا اس علیم کے علم میں ہے وہ قادر ہے کہ اس بدن سے بھی کچھ حصہ لے اور ضرور لے گا اور اس حصہ کو بھی جلالی رنگ میں غیر فانی کر دے۔سوائے ذات باری تعالیٰ کے کسی دوسرے کی یہ صفت نہیں کہ ابد الآباد تک رہے انسان کو غیر فانی جسم جو دیا جاوے گا یہ خدا کا عطیہ ہوگا۔‘‘ (الحکم جلد ۷ نمبر ۲ مورخہ ۱۷؍جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ ۶،۷)