ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 200 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 200

نو وارد۔بے ادبی معاف۔آپ کی زبان سے قاف ادا نہیں ہوسکتا۔حضرت اقدس۔یہ بیہودہ باتیں ہیں۔۱ میں لکھنؤ کا رہنے والا تو نہیں ہوں کہ میرا لہجہ لکھنوی ہو۔میں تو پنجابی ہوں۔حضرت مو سیٰ پر بھی یہ اعتراض ہو اکہ لَا يَكَادُ يُبِيْنُ(الزخرف:۵۳) اور احادیث میں مہدی کی نسبت بھی آیا ہے کہ اس کی زبان میں لکنت ہو گی۔(اس مقام پر ہمارے ایک مخلص مخدوم کو یہ اعتراض حسنِ ارادت کی وجہ اور غیرتِ عقیدہ کے سبب سے ناگوار گذرا۔اور وہ سُوئِ ادبی کو برداشت نہ کرسکے۔انہوں نے کہا کہ یہ حضرت اقدسؑ کا ہی حوصلہ ہے۔اس پر نو وارد صاحب کو بھی طیش سا آگیا اور انہوں نے بخیال خویش یہ سمجھا کہ انہوں نے غصّہ سے کہا ہے اور کہا کہ میں اعتقاد نہیںرکھتا اور حضرت اقدس سے مخاطب ہو کر کہا کہ استہزا اورگالیاں سننا انبیاء کا ورثہ ہے۔) حضرت اقدس۔ہم ناراض نہیں ہوئے یہاں تو خاکساری ہے۔نو وارد۔میں تو لٰكِنْ لِّيَطْمَىِٕنَّ قَلْبِيْ (البقرۃ:۲۶۱) کی تفسیر چاہتا ہوں۔حضرت اقدس۔میں آپ سے یہی توقع رکھتا ہوں مگر اللہ جلّشانہ نے اطمینان کا ایک ہی طریق نہیں رکھا۔موسیٰ علیہ السلام کو اور معجزات دیئے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اور معجزات دیئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اور قسم کے نشان بخشے۔میرے نزدیک وہ شخص کذّاب ہے جو یہ دعویٰ کرے کہ میں خدا کی طرف سے آیا ہوں اور کوئی معجزہ اور تائیدات اپنے ساتھ نہ رکھتا ہو۔مگر یہ بھی میرا مذہب نہیں کہ معجزات ایک ہی قسم کے ہوتے ہیں اورمیں اس کا قائل نہیں کیونکہ قرآن شریف سے یہ اَمر ثابت نہیں کہ ہر اقتراح کا جواب دیا جاتا ہے۔مداری۲ کی طرح یہ بھی نہیں ہوسکتا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیے گئے کہ آپ آسمان پر چڑھ جائیں اور وہاں سے کتاب لے آئیں یا یہ کہ تمہارا سونے کا گھر ہو یا یہ کہ مکہ میں نہر آجاوے مگر ان کا جواب کیا ملا؟ یہی هَلْ كُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا(بنیٓ اسـرآءیل:۹۴)۔انسان کو مؤدب باَدب انبیاء ہو ناچاہیے۔خدا تعالیٰ ۱البدر میں ہے۔’’یہ ایک بیہودہ اعتراض ہے‘‘ (البدر جلد۲ نمبر ۶ مورخہ ۲۷ ؍فروری ۱۹۰۳ء صفحہ ۴۵ ) ۲ البدر میں ہے۔’’معجزات مداری کا کھیل نہیں کہ جو کچھ اس سے مانگا اس نے جھٹ ٹوکرے یا تھیلے میں سے نکال کر دکھا دیا۔‘‘ (البدر جلد۲ نمبر ۷ مورخہ ۶ ؍مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ ۵۱ )