ملفوظات (جلد 4) — Page 199
(ان فقرات کو حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ایسے جوش سے بیان کیا کہ وہ الفاظ میں ادا ہی نہیں ہو سکتا نتیجہ یہ ہوا کہ یہاں نووارد صاحب بالکل خاموش ہو گئے اور پھر چند منٹ کے بعد انہوں نے اپنا سلسلہ کلام یوں شروع کیا۔) نو وارد۔عیسیٰ علیہ السلام کے لئے جو آیا ہے کہ وہ مُردوں کو زندہ کرتے تھے کیا یہ صحیح ہے؟۱ حضرت اقدس۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جو آیا ہے کہ وہ مثیلِ موسیٰ تھے کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ آپؐنے عصا کا سانپ بنایا ہو۔کافر یہی اعتراض کرتے رہے فَلْيَاْتِنَا بِاٰيَةٍ كَمَاۤ اُرْسِلَ الْاَوَّلُوْنَ (الانبیاء:۶) معجزہ ہمیشہ حالتِ موجودہ کے موافق ہوتا ہے۔پہلے نشانات کافی نہیں ہوسکتے اور نہ ہر زمانہ میں ایک ہی قسم کے نشان کافی ہوسکتے ہیں۔نو وارد۔اس وقت آپ کے پاس کیا معجزہ ہے؟ حضرت اقدس۔ایک ہو تو میں بیان کروں۔ڈیڑھ سو کے قریب نشان میں نے اپنی کتاب میں لکھے ہیں جن کے ایک لاکھ کے قریب گواہ ہیں اور ایک نوع سے وہ نشانات ایک لاکھ کے قریب ہیں۔نو وارد۔عربی میں آپ کا دعویٰ ہے کہ مجھ سے زیادہ فصیح کوئی نہیں لکھ سکتا۔حضرت اقدس۔ہاں۔البدر نے اس پر یہ نوٹ دیا ہے۔’’چونکہ سائل کا مطلب اس سوال سے یہ تھا کہ آپ جو مسیح موعود ہونے کے مدعی ہیں تو کس قدر مُردہ زندہ کیے۔اس لیے آپؑنے فرمایاکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جو مثیلِ موسیٰ کہا گیا تو آپ بتلایئے کہ آنحضرت نے کس قدر عصا کے سانپ بنائے؟ اور کون سے دریائے نیل پر آپ کا گذر ہوا؟ اور کب اور کس قدر جُوئیں، مینڈکیں اور خون آپ کے زمانہ میں آسمان سے برسا کیونکہ جب آپ مثیلِ موسیٰ تھے تو پھر آپ کے نزدیک تو تمام نشان موسیٰ والے آنحضرت ؐسے ظاہر ہوتے تو وہ مثیلِ موسیٰ ہوتے۔کفار نے بھی اس قسم کا سوال آپ سے کیا تھا فَلْيَاْتِنَا بِاٰيَةٍ كَمَاۤ اُرْسِلَ الْاَوَّلُوْنَ (الانبیآء:۶) جیسے موسیٰ اور عیسیٰ کو معجزات دیئے گئے ویسے ہی تم بھی دکھائو لیکن آنحضرت ؐ نے ویسا نشان نہ دکھایا وجہ اس کی یہ تھی کہ معجزات ہمیشہ حالتِ موجودہ کے موافق ہوتے ہیں جیسے زمانہ کی ضرورت کا تقاضا ہوتا ہے ویسے ہی خوارقِ عادات ہر ایک مرسل من اللہ لے کر آتا ہے‘‘ (البدر جلد ۲نمبر۶ مورخہ ۲۷؍فروری ۱۹۰۳ء صفحہ۴۵ )