ملفوظات (جلد 4) — Page 11
ملفوظات حضرت مسیح موعود 11 جلد چهارم یہاں جبریل نہیں کہا آئل کہا۔ اس لفظ کی حکمت یہی ہے کہ وہ دلالت کرے کہ مظلوم کو ظالموں سے بچاوے اس لئے فرشتہ کا نام ہی آئل رکھ دیا پھر اس نے انگلی ہلائی کہ چاروں طرف کے دشمن اور اشارہ کیا کہ يَعْصِمُكَ اللهُ مِنَ الْعِدَا وغیرہ ۔ یہ بھی اس پہلے الہام سے ملتا ہے إِنَّهُ كَرِيمٌ تَمَشَّى أَمَامَكَ وَعَادَى مَنْ عَادَى - وہ کریم ہے تیرے آگے آگے چلتا ہے جس نے تیری عداوت کی اس کی عداوت کی ۔ چونکہ آئل کا لفظ لغت میں مل نہ سکتا ہوگا یا زبان میں کم مستعمل ہوتا ہوگا اس لئے الہام نے خود اس کی تفصیل کر دی ہے۔ ( یہ گذشتہ چند روز کا الہام ہے ) جس طرح انبیاء کے صفات ہوتے ہیں اسی طرح ملائکہ کے بھی صفات ہوتے ہیں اور اصبعه کے اجتہادی معنے جو کچھ ہم کریں اصل واقعہ تو اس وقت معلوم ہو گا جب وہ ظہور پذیر ہوگا۔ کے دکھلایا جاتا۔ ایک نو وارد صاحب نے عرض کی کہ کاش مجھے بھی جبرائیل دکھلا۔ فرمایا ۔ جب خدا آپ کو وہ آنکھیں عنایت کرے گا تو آپ بھی دیکھ لیں گے وَمَا نَتَنَزَّلُ إِلَّا بامرِ رَبِّكَ (مریم : ۶۵) وہ تو خدا کے حکم سے نازل ہوتا ہے جب محمد حسین بٹالوی نے رسالہ کفر کا لکھا تھا اور لوگوں کو بھڑ کا یا تھا کہ یہ مسلمان نہیں ۔ ان کے جنازہ نہ پڑھو مسلمانوں کے قبرستان میں ان کو دفن نہ کرو اس وقت لوگ بھڑ کے اور ہماری مخالفت عام ہوگئی اور بغض و عداوت حد سے بڑھ گیا اس وقت میں نے کشفی حالت میں دیکھا کہ بھائی غلام قادر کی شکل پر ایک شخص آیا مگر فوراً مجھے معلوم کرایا گیا کہ یہ فرشتہ ہے میں نے کہا کہ تم کہاں سے آئے ہو؟ کہا جِئْتُ مِنَ الْحَضْرَةِ " میں جناب باری سے آیا ہوں چونکہ وہاں بہت لوگ معلوم ہوتے تھے میں نے اس سے الگ ہو کر ایک بات کرنے دو الحکم میں نو وارد کا لفظ نہیں بلکہ ابوسعید ع بلکہ ابوسعید عرب صاحب کا نام لکھا۔ کا نام لکھا ہے ۔ البدر میں بھی صرف اسی مقام پر نو وارد لکھا ہے ۔ آگے اس ڈائری میں عرب صاحب ہی لکھا ہے جس سے وضاحت ہو جاتی ہے کہ یہ نو وارد عرب صاحب ہی ہیں ۔ (مرتب) الحکم جلدے نمبر ا مورخه ۱۰ جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ ۲) الحکم میں جِئْتُ مِنْ حَضْرَةِ الْوِتْرِ لکھا ہے ۔ الحکم جلد ۷ نمبر ۲ مورخہ ۱۷ جنوری ۱۹۰۳ ءصفحہ ۶ )