ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 149 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 149

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۴۹ جلد چهارم ہیں نہ چھوڑیں گے اور ان کو اس لذت پر جو ایک مومن کو خدا میں ملتی ہے ترجیح دیں گے۔ خدائے تعالیٰ کا پروانہ موجود ہے جس کا نام قرآن شریف ہے جو جنت اور ابدی آرام کا وعدہ دیتا ہے مگر اس کی نعمتوں کے وعدہ پر چنداں لحاظ نہیں کیا جاتا اور عارضی اور خیالی خوشیوں اور راحتوں کی جستجو میں کس قدر تکلیفیں غافل انسان اُٹھاتا اور سختیاں برداشت کرتا ہے مگر خدائے تعالیٰ کی راہ میں ذراسی مشکل کو دیکھ کر بھی گھبرا اُٹھتا اور بدظنی شروع کر دیتا ہے۔ کاش وہ ان فانی لذتوں کے مقابلہ میں ان ابدی اور مستقل خوشیوں کا اندازہ کر سکتا۔ ان مشکلات اور تکالیف پر فتح پانے کے لیے ایک کامل اور خطا نہ کرنے والا نسخہ موجود ہے جو کروڑ بار است بازوں کا تجربہ کردہ ہے۔ وہ کیا ؟ وہ وہی نسخہ ہے جس کو نماز کہتے ہیں۔ نماز کیا ہے؟ ایک قسم کی دعا ہے جو انسان کو تمام برائیوں اور فواحش سے محفوظ رکھ کر حسنات کا مستحق اور انعام الہیہ کا مورد بنادیتی ہے۔ کہا گیا ہے کہ اللہ اسم اعظم ہے اللہ تعالیٰ نے تمام صفات کو اس رو کے تابع رکھا ہے۔ اب ذرا غور کرو۔ نماز کی ابتدا اذان سے شروع ہوتی ہے۔ اذان الله اکبر سے شروع ہوتی ہے۔ یعنی اللہ کے نام سے شروع ہو کر لا اله الا اللہ یعنی اللہ ہی پر ختم ہوتی ہے۔ یہ فخر سے اسلامی عبادت کو ہی ہے کہ اس میں اوّل اور آ ہے کہ اس میں اول اور آخر میں اللہ تعالیٰ ہی مقصود ہے نہ کچھ اور۔ میں دعوئی کہتا ہوں کہ اس قسم کی عبادت کسی قوم اور ملت میں نہیں ہے۔ پس نماز جو دعا ہے اور جس میں اللہ کو جو خدائے تعالیٰ کا اسم اعظم ہے مقدم رکھا ہے۔ ایسا ہی انسان کا اسم اعظم استقامت ہے۔ اسم اعظم سے مراد یہ ہے کہ جس ذریعہ سے انسانیت کے کمالات حاصل ہوں ۔ اللہ تعالیٰ نے اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ میں اس کی طرف ہی اشارہ فرمایا ہے اور ایک دوسرے مقام پر فرمایا کہ إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَئِكَةُ اَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا (حم السجدة: ٣١) یعنی جو لوگ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کے نیچے آگئے اور اس کے اسم اعظم استقامت کے نیچے جب بیضہ بشریت رکھا گیا۔ پھر اس میں اس قسم کی استعداد پیدا ہو جاتی ہے کہ ملائکہ کا نزول اس پر ہوتا ہے اور کسی قسم کا خوف و حزن ان کو نہیں رہتا۔ میں نے کہا ہے کہ استقامت بڑی چیز ہے۔ استقامت سے