ملفوظات (جلد 4) — Page 147
کی کھلی ہوئی کتاب اس کے سامنے ہوتی ہے۔دنیا میں جس قدر چیزیں اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہیں وہ انسان کے لیے جسمانی اور روحانی دونوں قسم کی راحتوں کے سامان ہیں۔میں نے حضرت جنید رحمۃ اللہ علیہ کے تذکرے میں پڑھا ہے کہ آپ فرمایا کرتے تھے۔میں نے مراقبہ بلّی سے سیکھا ہے۔اگر انسان نہایت پُرغور نگاہ سے دیکھے تو اسے معلوم ہوگا کہ جانور کھلے طور پر خُلق رکھتے ہیں۔میرے مذہب میں سب چرند و پرند ایک خُلق ہیں اور انسان اس کے مجموعہ کا نام ہے یہ نفس جامع ہے اور اسی لیے عالم صغیر کہلاتا ہے کہ کل مخلوق کے کمال انسان میں یکجائی طور پر جمع ہیں اور کل انسانوں کے کمالات بہیئت مجموعی ہمارے رسول ا للہ صلی اللہ علیہ وسلم میں جمع ہیں اور اسی لیے آپ کل دنیا کے لیے مبعوث ہوئے اور رَحْمَةٌ لِّلْعٰلَمِيْنَ کہلائے۔اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِيْمٍ (القلم: ۵) میں بھی اسی مجموعہ کمالات انسانی کی طرف اشارہ ہے اسی صورت میں عظمت ِاخلاق محمدی کی نسبت غور کرسکتا ہے اور یہی وجہ تھی کہ آپ پر نبوت کاملہ کے کمالات ختم ہوئے یہ ایک مسلّم بات ہے کہ کسی چیز کا خاتمہ اس کی علّتِ غائی کے اختتام پر ہوتا ہے۔جیسے کتاب کے جب کُل مطالب بیان ہوجاتے ہیں تو اس کا خاتمہ ہوجاتا ہے اسی طرح پر رسالت اور نبوت کی علّتِ غائی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہوئی اور یہی ختمِ نبوت کے معنے ہیں۔کیونکہ یہ ایک سلسلہ ہے جو چلاآیا ہے اور کامل انسان پرآکر اس کاخاتمہ ہوگیا۔استقامت ہی انسان کا اسمِ اعظم ہے میں یہ بھی بتلادینا چاہتا ہوں کہ استقامت جس پر میں نے ذکر چھیڑا تھا وہی ہے جس کو صوفی لوگ اپنی اصطلاح میں فنا کہتے ہیں اور اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ(الفاتـحۃ: ۶) کے معنے بھی فنا ہی کے کرتے ہیں۔یعنی رُوح، جوش اور ارادے سب کے سب اللہ تعالیٰ کے لیے ہی ہو جائیں اور اپنے جذبات اور نفسانی خواہشیں بالکل مَر جا ئیں۔بعض انسان جو اللہ تعالیٰ کی خواہش اور ارادے کو اپنے ارادوں اور جوشوں پر مقدم نہیں کرتے وہ اکثر دفعہ دنیا ہی کے جوشوںاور ارادوںکی ناکامیوں میں اس دنیا سے اُٹھ جاتے ہیں۔ہمارے بھائی صاحب مر حوم مرزا غلام قادر کو مقدمات میں بڑی مصروفیت رہتی تھی اور ان میں وہ یہاں تک منہمک اور محو رہتے تھے کہ آخر ان ناکامیوں نے ان کی