ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 146 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 146

بدکاریوںاور کوتاہ اندیشیوں سے بازآجائے اورخدا تعالیٰ پر اسے ایک نیاایمان حاصل ہو اور اپنے سابقہ گناہوںپر توبہ اور نادم ہونے کا موقع ملے۔انسان عاجزکی ہستی کیا ہے؟ صرف ایک دم پر انحصار ہے۔پھر کیوںوہ آخرت کا فکر نہیں کرتا اور موت سے نہیں ڈرتا اور نفسانی اور حیوانی جذبات کا مطیع اور غلام ہو کر عمرضائع کر دیتا ہے۔میں نے دیکھاہے کہ ہندوؤںکو بھی احساسِ موت ہوا ہے۔بٹالہ میں کشن چندنام ایک بھنڈاری ستّر یا بہتّر برس کی عمر کا تھا۔اس وقت اس نے گھربار سب کچھ چھوڑدیا اور کانشی میں جا کر رہنے لگا اور وہاں ہی مَر گیا۔یہ صرف اس لیے کہ وہاں مَرنے سے اس کی موکش ہو گی مگر یہ خیال اس کا باطل تھا۔لیکن اس سے اتنا تو مفید نتیجہ ہم نکال سکتے ہیں کہ اس نے احساسِ موت کیا اور احساسِ موت انسان کو دنیاکی لذّات میں بالکل منہمک ہونے سے اور خدا سے دور جا پڑنے سے بچا لیتا ہے۔یہ بات کہ کانشی میں مَرنا مکتی کا باعث ہوگا یہ اسی مخلوق پرستی کا پردہ تھا جو اس کے دل پر پڑاہواتھا مگر مجھے تو سنحت افسوس ہوتا ہے جب کہ میں دیکھتا ہوںکہ مسلمان ہندوؤںکی طرح بھی احساسِ موت نہیں کرتے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کودیکھوصرف اس ایک حکم نے کہ فَاسْتَقِمْ كَمَاۤ اُمِرْتَ نے ہی بوڑھا کر دیا۔کس قدر احساسِ موت ہے۔آپ کی یہ حالت کیوںہوئی صرف اس لئے کہ تاہم اس سے سبق لیں۔ورنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک اور مقدس زندگی کی اس سے بڑھ کر اَور کیا دلیل ہوسکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہاد ی کامل اور پھر قیامت تک کے لیے اور اس پر کُل دنیا کے لیے مقرر فرمایا۔مگر آپ کی زندگی کے کل واقعات ایک عملی تعلیمات کامجموعہ ہے جس طرح پر قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی قولی کتاب ہے اور قانونِ قدرت اس کی فعلی کتاب ہے اسی طرح پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ز ندگی بھی ایک فعلی کتاب ہے جو گویا قرآن کریم کی شرح اور تفسیر ہے۔میرے تیس سال کی عمر میں ہی سفید بال نکل آئے تھے اور مرزا صاحب مرحوم میرے والد ابھی زندہ ہی تھے۔سفید بال بھی گویا ایک قسم کا نشانِ موت ہوتا ہے جب بڑھاپا آتا ہے جس کی نشانی یہی سفید بال ہیں تو انسان سمجھ لیتا ہے کہ مَرنے کے دن اب قریب ہیں۔مگر افسوس تو یہ ہے کہ اس وقت بھی انسان کو فکر نہیں لگتا۔مومن تو ایک چڑیا اور اور جانور وںسے بھی اخلاق فاضلہ سیکھ سکتاہے کیونکہ خدائے تعالیٰ