ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 132 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 132

ہے اس لیے کوئی مخالف ہاتھ اس کو گزند نہیں پہنچا سکتا۔حیا تِ مسیح کا عقیدہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی ماننے سے شرک پیدا ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ اُس کو پسند نہیں کرتا اور آنحضرت کی عظمت توحید ہی سے ظاہر ہوتی ہے اس لئے خدا تعالیٰ نے ارادہ کیا ہے کہ وہ مسیحؑ کی موت کے پر دہ کو اُ ٹھا دے اور عالم کودکھادے کہ در حقیقت حضرت مسیح عام انسانوں کی طرح تھے ان میں کوئی خصوصیت اور الُوہیت نہ تھی و ہ و فات پا گئے۔اور جیسے جسمانی طور پر آپ مَر گئے روحانی طور پر بھی عیسائی مذہب مَرگیا اور اُس میں کوئی قبولیت اور شرف کا نشان باقی نہیں۔ایک بھی عیسائی نہیں جو کھڑا ہو کر دعویٰ سے کہہ سکے کہ میں ان زندہ آثار اورنشانات سے جو زندہ مذہب کے ہیں اسلام کا مقابلہ کرسکتا ہوں۔چالیس کروڑ انسان جو مختلف اغراضِ نفسانی کی بنا پر یا اَور وجو ہات سے اس کو خدا بنا رہے ہیں۔وہ وقت آتا ہے کہ اس کی خدائی سے توبہ کریں گے اوراس کو عام انسانوں میں جگہ دیں گے۔مسلمانوں پر افسوس ہے جنہوں نے عیسائیوں کی ہاں میں ہاں ملائی ہے اور اس کوخدا بنانے میں مدد دی۔عیسائی کھلے طور پرخدا مانتے ہیں اور یہ لوگ خدائی کے صفات دیتے ہیں ان کی ویسی ہی مثال ہے جیسے کوئی شخص کہے کہ فلاںآدمی مَرگیا ہے لیکن دوسرا یہ کہے کہ ا بھی مَرا تو نہیں مگر بدن سرد ہے اور نبض بھی نہیں چلتی اور حرکت بھی نہیں تو کیا وہ مُردہ نہ ہوگا؟ یہی حال حضرت عیسیٰ کی خدائی کے متعلق ہے۔خدائی کے صفات ان میں تسلیم کرتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ ہم خدا نہیں مانتے۔اب غیرت مند مسلمان سوچ کر جواب دیں کہ جب حضرت عیسٰیؑ کوخالق مانا جاتاہے، محیی مانا جاتاہے، غیب دان مانا جاتا ہے، شافی مانا جاتا ہے، حیّ مانا جاتا ہے تو اور کیا باقی رہا۔غرض مسلمانوں کی حالت بہت نازک ہو گئی ہے اور وہ سوچتے نہیں۔اس وقت اگر اورنشانات اور تائیدات ہمارے دعویٰ کی مصدّق اور مؤیّدنہ ہوتیں تب بھی وقت ایساتھا کہ وہ زبر دست ضرورت بتا تا ہے۔خدا تعالیٰ ہی ان کی آنکھیں کھولے تو بات بنے گی۔۱ ۱ الحکم جلد ۷ نمبر ۳۰ مورخہ ۱۷؍ اگست ۱۹۰۳ء صفحہ ۱، ۲