ملفوظات (جلد 4) — Page 131
لوگ بیمار ہیں اور چاہتے ہیں کہ ہلاک ہو جائیں ایسے بیماروں سے بڑھ کرکون واجب الرحم ہوسکتا ہے جو اپنی بیماری کو صحت سمجھے۔یہی وہ مرض ہے جس کو لاعلاج کہنا چاہیے۔اور ان لوگوں پر اور بھی افسوس ہے جو خود حدیثیں پڑھتے اور پڑ ھاتے تھے کہ ہرصدی کے سر پر مجدّد آیا کرتا ہے لیکن اس چودھویں صدی کے مجدّد کا انکار کردیا اور نہیں بتاتے کہ اس صدی پر جس میں سے بیس سال گذر گئے کوئی مجدّد آیا ہے یا نہیں؟ خود پتا نہیں دیتے اور آنے والے کا نام دجّال رکھتے ہیں۔کیا اسلام کی اس خستہ حالی کامداوا اللہ تعالیٰ نے یہی کیا کہ بجائے ایک مصلح اور مَردِ خدا کے بھیجنے کے ایک کافر اور دجّال کو بھیج دیا؟ یہ لوگ ایسے اعتقادرکھ کر خدا تعالیٰ، اس کی پاک کتاب قرآن مجید اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کرتے ہیں۔خدا ان پر رحم کرے۔اس وقت تقویٰ بالکل اُٹھ گیاہے۔اگر مُلاّنوں کے پاس جائیں تو وہ اپنے ذاتی اور نفسانی اغراض کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔مسجدوں کو دوکانوں کا قائم مقام سمجھتے ہیں۔اگر چار روز روٹیاں بند ہوجائیں تو کچھ تعجب نہیں کہ نماز پڑھنا پڑھانا ہی چھوڑدیں۔اس دین کے دو ہی بڑے حصے تھے ایک تقویٰ دوسرے تائیدات سماویہ۔مگر اب دیکھا جاتا ہے کہ یہ باتیں نہیں رہیں۔عام طورپرتقویٰ نہیں رہااور تائیداتِ سماویہ کا یہ حال ہے کہ خود تسلیم کر بیٹھے ہیں کہ مدّت ہوئی ان میں نہ کوئی نشانات ہیں نہ معجزات اور نہ تائیداتِ سماویہ کا کوئی سلسلہ ہے۔جلسہ مذاہب میں مولوی محمد حسین نے صاف طورپر اقرار کیا تھا کہ اب معجزات اور نشانات دکھانے والا کوئی نہیں اور یہ ثبوت ہے اس اَمر کا کہ تقویٰ نہیں رہی کیونکہ نشانات تومتقی کو ملتے ہیں۔اللہ تعالیٰ دین کی تائید اور نصرت کرتا ہے مگر وہ نصرت تقویٰ کے بعد آتی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نشانات اور معجزات اسی لئے عظیم الشان قوت اور زندگی کے نشانات ہیں کہ آپ سَیِّدُ الْمُتَّقِیْن تھے۔آپ کی عظمت اورجلال کا خیال کرکے بھی انسان حیران رہ جاتا ہے۔اب پھر اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا ہے کہ آپ کاجلال دوبارہ ظاہرہو اورآپ کے اسمِ احمدؐ کی تجلّی دنیا میں پھیلے اور اسی لئے اس نے اس سلسلہ کو قائم کیا ہے۔یہ سلسلہ خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے قائم کیا ہے اور اس کی غرض اللہ تعالیٰ کی توحیداور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جلال ظاہر کرنا