ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 133 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 133

۱۸ ؍جنوری ۱۹۰۳ء تقدیرمعلّق وتقدیرمُبرم تقدیر دو قسم کی ہوتی ہے۔ایک کانام معلّق ہے اور دوسری کو مُبرم کہتے ہیں اگر کوئی تقدیرمعلّق ہو تو دعا اور صدقات اس کو ٹلا دیتی ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اس تقدیرکو بدل دیتا ہے اور مُبرم ہونے کی صورت میں وہ صدقات اور دعااس تقدیرکے متعلق کچھ فائدہ نہیں پہنچاسکتی۔ہاں وہ عبث اور فضول بھی نہیں رہتی کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی شان کے خلاف ہے۔وہ اس دعا اور صدقات کااثر اور نتیجہ کسی دوسرے پیرایہ میں اس کو پہنچادیتا ہے۔بعض صورتوں میں ایسابھی ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کسی تقدیر میں ایک وقت تک توقف اور تاخیر ڈال دیتا ہے۔قضاءِ معلّق ا ورمُبرم کا ماخذ اور پتا قرآنِ کریم ہی سے ملتاہے۔گو یہ الفاظ نہیں۔مثلاً قرآن میں فرمایا ہے اُدْعُوْنِيْٓ اَسْتَجِبْ لَكُمْ(المؤمن:۶۱) دعا مانگو میں قبول کروں گا۔اب یہاں سے معلوم ہوتاہے کہ دعا قبول ہوسکتی ہے اور دعا سے عذاب ٹل جاتا ہے اور ہزار ہا کیا، کُل کام دعا سے نکلتے ہیں۔یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کُل چیزوںپر قادرانہ تصرّف ہے وہ جوچاہتا ہے کرتاہے اس کے پوشیدہ تصرّفات کی لوگوں کو خواہ خبرہو یا نہ ہو مگر صد ہاتجربہ کا روں کے وسیع تجربے اور ہزارہا دردمندوں کی دعاؤں کے صریح نتیجے بتلارہے ہیں کہ اس کا ایک پوشیدہ اورمخفی تصرّف ہے۔وہ جوچاہتاہے محو کرتا ہے اور جو چاہتاہے اثبات کرتا ہے۔ہمارے لئے یہ ضروری اَمرنہیں کہ ہم اس کی تہہ تک پہنچنے اوراس کی کنہ اور کیفیت کو معلوم کرنے کی کوشش کریں جب کہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ ایک شَے ہونے والی ہے اس لیے ہم کو جھگڑے اور بحث میں پڑنے کی کچھ حاجت نہیں۔خدا تعالیٰ نے انسان کی قضاء وقدر کو مشروط بھی رکھا ہے جو توبہ خشوع وخضوع سے ٹل سکتی ہیں۔جب کسی قسم کی تکلیف اورمصیبت انسان کو پہنچتی ہے تووہ فطرتاً اور طبعاًاعمالِ حسنہ کی طرف رجوع کرتا ہے۔اپنے اندر ایک قلق اور کرب محسوس کرتاہے جو اسے بیدار کرتا اور نیکیوںکی طرف کھنچے لیے جاتاہے اور گناہ سے ہٹاتا