ملفوظات (جلد 4) — Page 124
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۲۴ جلد چهارم بادشاہی دی۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی کمبل پہن لیا اور ہر چہ باداباد ماکشتی در آب نے بھی لیا انداختیم کا مصداق ہو کر آپ کو قبول کیا تو کیا خدا تعالیٰ نے ان کے اجر کا کوئی حصہ باقی رکھ لیا؟ ہرگز نہیں۔ جو خدا تعالیٰ کے لئے ذرا بھی حرکت کرتا ہے وہ نہیں مرتا جب تک اس کا اجر نہ پالے۔ حرکت شرط ہے۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ اگر کوئی اللہ تعالیٰ کی طرف معمولی رفتار سے آتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف دوڑ کر آتا ہے۔ ایمان یہ ہے کہ کچھ خفی ہو تو مان لے۔ جو ہلال کو دیکھ لیتا ہے تیز نظر کہلاتا ہے لیکن چودھویں رات کے چاند کود یکھ کر شور مچانے والا دیوانہ کہلائے گا۔ اس موقع پر مولانا مولوی عبداللطیف صاحب حضرت شہزادہ عبداللطیف کا بلی کا مقام کا بلی نے رض کی کہ حضورا میں نے ہمیشہ آپ کو سورج ہی کی طرح دیکھا ہے کوئی امر مخفی یا مشکوک مجھے نظر نہیں آیا پھر مجھے کوئی ثواب ہوگا یا نہیں۔ فرمایا۔ آپ نے اس وقت دیکھا جب کوئی نہ دیکھ سکتا تھا۔ آپ نے اپنے آپ کو نشانہ ابتلا بنادیا اور ایک طرح سے جنگ کے لیے طیار کر دیا۔ اب بچ جانا یہ خدا کا فضل ہے۔ ایک شخص جو جنگ میں جاتا ہے اس کی شجاعت میں تو کوئی شبہ نہیں اگر وہ بچ جاتا ہے اور اسے کوئی گزند نہیں پہنچتا تو یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔ اسی طرح آپ نے اپنے آپ کو خطرات میں ڈال دیا اور : رات میں ڈال دیا اور ہر دکھ اور ہر مصیبت کو اس راہ میں اُٹھانے کے لیے طیار ہو گئے اس لیے اللہ تعالی آپ کے اجر کو ضائع نہیں کرے گا۔ مخالفوں کا ساحر کہنا خان عجب خان صاحب حضور پشاور میں میرے مخالف لوگ جمع ہوئے اور اُنہوں نے میرے والد سے کہا کہ اس کو منع کرو۔ میں نے ان کو یہی اب دیا کہ میں نے جس صداقت کو دیکھ لیا ہے اور خدا کے فضل سے سمجھ لیا ہے اب اسے سچائی سچائی سمجھ کر میں کیوں کر چھوڑ سکتا ہوں ۔ اگر اب چھوڑوں تو مجھ سے بڑھ کر خطا کار اور زیاں کا رکون ہوگا کیونکہ مجھ پر حجت پوری ہو چکی ہے۔ اس پر اُنہوں نے اور تو کچھ نہ کہا صرف یہ کہہ کر ٹال دیا کہ وہ جادوگر ہے فرمایا۔ جادو گر کہلا نا قدیم سے انبیاء علیہم السلام کی سنت چلی آتی ہے۔ ہم کو اگر کسی نے جادو گر کہا تو اُسی سنت کو پورا کیا۔