ملفوظات (جلد 4) — Page 125
قرآن شریف اور حدیث کا مرتبہ مگر یاد رکھنا چاہیے کہ ہم تو قرآن شریف پیش کرتے ہیں جس سے جادوبھاگتا ہے اس کے بالمقابل کوئی باطل اور سحر ٹھہر نہیں سکتا۔ہمارے مخالفوں کے ہاتھ میں کیا ہے جس کو وہ لیے پھرتے ہیں۔یقیناً یاد رکھو کہ قرآن شریف وہ عظیم الشان حربہ ہے کہ اُس کے سامنے کسی باطل کو قائم رہنے کی ہمّت ہی نہیں ہوسکتی۔یہی وجہ ہے کہ کوئی باطل پرست ہمارے سامنے اور ہماری جماعت کے سامنے نہیں ٹھہرتا اور گفتگو سے انکار کر دیتا ہے۔یہ آسمانی ہتھیار ہے جو کبھی کُند نہیں ہوسکتا۔ہمارے اندرونی مخالف اُس کو چھوڑ کر الگ ہوگئے ہیں ورنہ اگر قرآن شریف کی رُو سے یہ فیصلہ کرنا چاہتے تو ان کو اس قدر مصیبتیں پیش نہ آتیں۔ہم خدا تعالیٰ کا پیارا اور یقینی کلام قرآن شریف پیش کرتے ہیں اور وہ اس کے جواب میں قرآن سے استدلال نہیں کرتے۔ہمارا مذہب یہی ہے کہ خدا تعالیٰ کے کلام کو مقدم کرو جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا۔جو قرآن شریف کے خلاف ہو ہم نہیں مان سکتے خواہ وہ کسی کا کلام ہو۔اللہ تعالیٰ کے کلام پر ہم کسی کی بات کوتر جیح کس طرح دیں۔ہم احادیث کی عزّت کرتے ہیں اور اپنے مخالفوں سے بھی بڑھ کر احادیث کو واجب العمل سمجھتے ہیں لیکن یہ سچ ہے کہ ہم دیکھیں گے کہ وہ حدیث قرآن شریف کے کسی بیان کے متعارض یا متخالف نہ ہو۔اور محدثین کی اپنی وضع کردہ اُصولوں کی بنا پر اگر کوئی حدیث موضوع بھی ٹھہرتی ہو لیکن قرآن شریف کے مخالف نہ ہو بلکہ اس سے قرآن کی عظمت کا اظہار ہوتا ہے تب بھی ہم اس کو واجب العمل سمجھتے ہیں اور اس اَمر کا پاس کریں گے کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہے۔لیکن اگر کوئی حدیث ایسی پیش کی جاوے جو قرآن شریف کے مخالف ہو تو ہم کوشش کریں گے کہ اُس کی تاویل کرکے اس مخالفت کو دور کریں لیکن اگر وہ مخالفت دور نہیں ہوسکتی تو پھر ہم کو وہ حدیث بہرحال چھوڑنی پڑے گی کیونکہ ہم اس پر قرآن کو چھوڑ نہیں سکتے۔اس پر بھی ہم دعویٰ سے کہتے ہیں کہ وہ تمام احادیث جو اس معیار پر صحیح ہیں وہ ہمارے ساتھ ہیں۔بخاری اور مسلم میرے د عویٰ کی تائید اور تصدیق کرتے ہیں جیسے قرآن شریف نے فرمایا کہ مسیح