ملفوظات (جلد 4) — Page 123
کا تسلیم کرنا کچھ مشکل امر تو نہیں ہوتا۔ان کے نشانات ظاہر ہوتے ہیں لیکن کو رباطن اپنے آپ کو شبہات اور خطرات میں مبتلا کر لیتے ہیں۔وہ لوگ بڑے ہی بد قسمت ہوتے ہیں جو انتظار ہی میں اپنی عمر گذار دیتے ہیں اور پردہ برانداز ثبوت چاہتے ہیں۔ان کو معلوم نہیں کہ جیسا خود اللہ تعالیٰ نے فرما دیا ہے انکشاف کے بعد ایمان نفع نہیں دیتا۔نفع میں وہی لوگ ہوتے ہیں اور سعادت مند وہی ہیں جو مخفی ہونے کی حالت میں شناخت کرتے ہیں۔دیکھو! جب تک لڑائی جاری ہوتی ہے اس وقت تک فوجوں کو تمغے ملتے ہیں اور خطاب ملتے ہیں لیکن جب امن ہوجاوے اس وقت اگر کوئی فوج چڑھائی کرے تو یہی کہا جائے گا کہ یہ لُوٹنے کو آئے ہیں۔شیطان کی آخری جنگ یہ زمانہ بھی رُوحانی لڑائی کا ہے۔شیطان کے ساتھ جنگ شروع ہے۔شیطان اپنے تمام ہتھیاروں اور مکروں کو لے کر اسلام کے قلعہ پر حملہ آور ہو رہا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ اسلام کو شکست دے مگر خدا تعالیٰ نے اس وقت شیطان کی آخری جنگ میں اُس کو ہمیشہ کے لئے شکست دینے کے لئے اس سلسلہ کو قائم کیا ہے۔مبارک وہ جو اس کو شناخت کرتا ہے اب تھوڑا زمانہ ہے ابھی ثواب ملے گا لیکن عنقریب وقت آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سلسلہ کی سچائی کو آفتاب سے بھی زیادہ روشن کر دکھائے گا۔وہ وقت ہوگا کہ ایمان ثواب کا موجب نہ ہوگا اور توبہ کا دروازہ بند ہونے کا مصداق ہوگا۔اس وقت میرے قبول کرنے والے کو بظاہر ایک عظیم الشان جنگ اپنے نفس سے کرنی پڑتی ہے۔وہ دیکھے گا کہ بعض اوقات اس کو برادری سے الگ ہونا پڑے گا۔اُس کے دُنیوی کا روبار میں روک ڈالنے کی کوشش کی جاوے گی اُس کو گالیاں سننی پڑیں گی لعنتیں سنے گا مگر ان ساری باتوں کا اجر اللہ تعالیٰ کے ہاں سے ملے گا۔لیکن جب دوسرا وقت آیا اور اس زور کے ساتھ دنیا کا رجوع ہو اجیسے ایک بلند ٹیلہ سے پانی نیچے گرتا ہے اور کوئی انکارکرنے والا ہی نظر نہ آیا اُس وقت اقرار کس پایۂ کا ہوگا اس وقت ماننا شجاعت کا کام نہیں۔ثواب ہمیشہ دُکھ ہی کے زمانہ میں ہوتا ہے۔حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آنحضر ت صلی اللہ علیہ وسلم کو قبول کرکے ا گر مکہ کی نمبرداری چھوڑ دی تو اللہ تعالیٰ نے اُس کو ایک دنیا کی