ملفوظات (جلد 4) — Page 94
یسے دین کو چھوڑ دیں۔ہزاروں ہزار لوگ پائے جاتے ہیں جن کے مرتد ہونے کی وجہ یہی مولوی ہوگئے ہیں۔یہ بات کہ وہ سوال کیوں کرتے ہیں بڑی سہل ہے۔یہ لوگ تیرہ سو برس کے بعد چونکہ پیدا ہوئے ہیں۔اس قدر بُعد زمانہ کی وجہ سے گویا یہ تاریکی کا زمانہ کہنا چاہیے۔اس لئے ان کو حق حاصل ہے کہ جو بات سمجھ میں نہ آئے پوچھیں لیکن سوال کرنے پر انہوں نے جو اخلاق ان مولویوں کے دیکھے انہوں نے ان کو گمراہ کر دیا۔چاہیے تو یہ تھا کہ ان کو معذور اور واجب الرحم سمجھ کر نرمی سے پیش آتے اور ان کو سمجھاتے۔مگر اُلٹا انہوں نے ان کو اسلام سے بیزار کر دیا۔ایسی حالت میں اﷲ تعالیٰ نے مجھے بھیجا ہے کہ میں اسلام کی تعلیم کی خوبیاں ظاہر کروں اور پھر ان خوبیوں کا عملی ثبوت اور اس کی تاثیروں کو دکھائوں۔مسیح موعود کے دو کام پس اس وقت ہمارے دو کام ہیں۔اول یہ کہ ان نشانوں کے ساتھ جو اﷲ تعالیٰ دکھا رہا ہے یہ ثابت کیا جاوے کہ مجیب اور ناطق خدا ہمارا ہی ہے جو ہماری دعائوں کو سنتا اور ان کے جواب دیتا ہے اور دوسرے مذاہب کے لوگ جو خدا پیش کرتے ہیں وہ اَلَّا يَرْجِعُ اِلَيْهِمْ قَوْلًا(طٰہٰ: ۹۰) کا مصداق ہو رہا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ بوجہ ان کے کفر اور بے دینی کے ان کی دعائیں مَا دُعٰٓـؤُا الْكٰفِرِيْنَ اِلَّا فِيْ ضَلٰلٍ (الرّعد: ۱۵) کی مصداق ہو گئی ہیں۔ورنہ اﷲ تعالیٰ تو سب کا ایک ہی ہے۔مگر ان لوگوں نے اس کی صفات کو سمجھا ہی نہیں ہے۔پس یاد رکھو کہ ہمارا خدا ناطق خدا ہے۔وہ ہماری دعائیں سنتاہے۔ہماری جماعت کا خدا تعالیٰ سے سچا تعلق ہونا چاہیے ہماری جماعت کو خدا تعالیٰ سے سچا تعلق ہونا چاہیے اور ان کو شکر کرنا چاہیے کہ خدا تعالیٰ نے ان کو یونہی نہیں چھوڑ دیا۔بلکہ ان کی ایمانی قوتوں کو یقین کے درجہ تک بڑھانے کے واسطے اپنی قدرت کے صدہا نشان دکھائے ہیں۔کیا کوئی تم میں سے ایسا بھی ہے جو یہ کہہ سکے کہ میں نے کوئی نشان نہیں دیکھا۔میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ ایک بھی ایسا نہیں جس کو ہماری صحبت میں رہنے کا موقع ملا ہو اور اس نے خدا تعالیٰ کا تازہ بتازہ نشان اپنی آنکھ